42

وفاقی کابینہ، قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلیے ڈیٹا بیس کے قیام کی منظوری

وفاق کے زیرانتظام 5 اسپتالوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز،10 بجلی کمپنیوں کے بورڈزمیں صارفین نمائندوں کی شمولیت کی منظوری۔ فوٹو: فائل

وفاق کے زیرانتظام 5 اسپتالوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز،10 بجلی کمپنیوں کے بورڈزمیں صارفین نمائندوں کی شمولیت کی منظوری۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے اشیائے خوردونوش کی طلب و رسد کا ریکارڈ اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلیے ڈیٹا بیس کے قیام اوراس کیلیے مجوزہ قانون کی اصولی منظوری دی۔

کابینہ نے وفاق کے زیرانتظام 5 اسپتالوں کے ایم ٹی آئی بورڈ آف ڈائریکٹرز، بجلی کی 10 تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈزآف ڈائریکٹرزمیں صارفین کے نمائندوں کی شمولیت ،ایم ڈی بیت المال سمیت اہم تعیناتیوں کی بھی منظوری دے دی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا، اجلاس کے آغاز میں وزیرِ اعظم عمران خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔ اجلاس کو اس حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے کابینہ کو تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ نیوکلیئر اور بائیولوجیکل ہتھیاروں سے متعلقہ سامان، ٹیکنالوجی اور آلات وغیرہ کی برآمد پر کنٹرول کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار دار 1540پر مؤثرعمل درآمد کو یقینی بنانے اور ویپن آف ماس ڈسٹرکشن کا پھیلا ؤروکنے کے حوالے سے حکومت پاکستان کے عزم کو مزید موثر طریقے سے عملی جامہ پہنانے کے لئے کابینہ نے اسٹریٹجک ایکسپپورٹ کنٹرول ڈویژن کو بعض اختیارات تفویض کرنے کی منظوری دی تاکہ وہ اس حوالے سے بروقت فیصلے لے سکے۔

جن وفاقی میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹس اور ان سے ملحقہ ٹیچنگ ہسپتالوں کا انتظام اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی غرض سیبورڈز آف ڈائریکٹرزکی تعیناتی کی منظوری دی گئی ان میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائیلڈ ہیلتھ کراچی کیلئے ڈاکٹر احسن ربانی، پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی، عامر اے اللہ والا ،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیوویسکولر ڈیزیزز کراچی کیلئے ڈاکٹر حسنات محمد شریف، جسٹس سرمد جے عثمانی، حسن عزیز بلگرامی ، بورڈ آف گورنرز برائے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کراچیکیلئے ڈاکٹر امتیاز اے ہاشمی اور پرفیسر ایس ٹیپو سلطان جبکہ بورڈ آف گورنرز برائے پمز اسلا م آباد میں مزمل رشید شامل ہیں۔

کابینہ نے افغانستان میں یونائیٹڈ نیشنز اسسٹنس مشن اور یونیسیف کی درخواست کو مد نظر رکھتے ہوئے کراچی سے کابل تک چند کنٹینزر کی ترسیل کی اجازت دینے کی منظوری دی۔ کابینہ نے خالد حامد کو چیف ایگزیکٹیو آفسیر برائے نیشنل انشورنس کمپنی تعینات کرنے کی منظوری دی۔

کابینہ نے پاک ایران سرحد پر بارڈر مارکیٹوں کے قیام کے لئے ایران سے مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ظہیر عباس کو مینجنگ ڈائریکٹر پاکستان بیت المال تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے بجلی کی دس تقسیم کار کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صارفین کے نمائندوں کی شمولیت کی منظوری دی۔ ان نمائندگان کا تعلق سول سوسائٹی سے ہوگا۔

وفاقی کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے31مارچ 2021ء کے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے کابینہ کو کابینہ کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کی جانب سے مرتب کی جانے والی سفارشات پیش کیں۔

اجلاس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت چاہتی کہ کراچی میں وفاق کے زیرانتظام ہسپتالوں کو مل کر چلایا جائے۔انہوں نے کہا شاہدخاقان عباسی کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بارے میں غلط الفاظ کی مذمت کرتے ہیں، پارلیمنٹ میں ہمیں دنگا فساد کی بجائے مہذب رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں