22

’’ویکسین نیشنلزم‘‘ اس وقت ایک اہم مسئلہ ہے

چین 80 سے زائد ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی مدد فراہم کرچکا ہے۔ (فوٹو: فائل)

چین 80 سے زائد ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی مدد فراہم کرچکا ہے۔ (فوٹو: فائل)

بیجنگ: حال ہی میں امریکی حکومت نے کووڈ 19 ویکسین کے حوالے سے دانشورانہ املاک کے تحفظ سے متعلق چھوٹ کی حمایت کی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ یہ موجودہ وبا سے نمٹنے کا موثر اقدام نہیں ہے۔ بڑی تعداد میں بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے خیال میں امریکا کا یہ بیان قابل عمل نہیں ہے۔ یہ ایسا ہے کہ کسی کو بھوک لگی اور اسے مٹانے کےلیے کیک کی پینٹنگ بنانا شروع کردی جائے۔ یہ اعلان محض سیاسی شعبدہ بازی ہے۔

کووڈ 19 ویکسین کے حوالے سے دانشورانہ املاک کے تحفظ سے متعلق چھوٹ کی منظوری کےلیے ڈبلیو ٹی او کے ایک سو چھیاسٹھ رکن ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کی تشکیل کےلیے طویل مدتی مذاکرات ہوں گے۔ ایسے موجودہ ہنگامی مسئلے کو کیسے حل کیا جاسکے گا؟

کچھ دن قبل، یورپی کمیشن کی صدر وان ڈیرلین نے کہا تھا کہ دنیا کی اولین ترجیح ویکسین کی مناسب فراہمی اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ دانشورانہ املاک میں چھوٹ کا مسئلہ ہے۔ اس بیان سے امریکی حکومت کے غیر عملی ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

واقعی اس وقت اہم مسئلہ ’’ویکسین نیشنلزم‘‘ ہے۔ امریکی ویکسینوں کا تقریباً 100 فیصد امریکا کو فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں امیر ممالک ضرورت سے زیادہ ویکسین جمع کررہے ہیں، اور غریب ممالک میں ویکسین کی قلت ہے۔ اس سے مزید خراب بات یہ ہے کہ امریکا نے مختلف ویکسینوں کی تیاری کےلیے درکار خام مال کی برآمد پر پابندی عائد کردی ہے، جس کی وجہ سے وبا کے خلاف جنگ میں عالمی سطح پر تعاون میں سنگین رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں۔

خوبصورت اقوال کے مقابلے میں دنیا کو حقیقی عمل کی ضرورت ہے۔ اب تک چین 80 سے زائد ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی مدد فراہم کرچکا ہے۔ چین نے پچاس سے زائد ممالک کو ویکسین برآمد کی۔ حال ہی میں ڈبلیو ایچ او نے ہنگامی استعمال کی فہرست میں چائنا نیشنل فارماسیوٹیکل گروپ کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین کو شامل کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی ویکسینز حقیقی معنوں میں دنیا کی خدمت کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں