50

ٍکورونا کی وجہ سےعام ہونے والے ’خاص‘ الفاظ

کورونا نے دنیا بھر میں لوگوں کے معمولات زندگی کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے

کورونا نے دنیا بھر میں لوگوں کے معمولات زندگی کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے

 کراچی: کورونا نے دنیا بھر میں لوگوں کے معمولات زندگی کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اسی کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں کچھ ایسے لفظ بھی عام بول چال کا حصہ بنے جن کے مفہوم اور معنی جاننے کےلیے لوگ لغات کا استعمال کرتے تھے۔

 قرنطینہ (quarantine)

کورنٹائن دراصل اطالوی زبان کا لفظ ہے جس کا پہلی بار استعمال 14ویں صدی میں کیا گیا۔ اس کے لفظی معنی چالیس کے ہیں۔ اورماضی میں آنے والی وباؤں میں مریضوں کو تیس سے چالیس دن دوسروں سے الگ رکھا جاتا ہے اور یہی طریقہ کار کورونا کے دوران بھی روا رکھا گیا۔  اسی وجہ سے آج تقریبا ہر فرد ’لفظ‘ قرنطینہ‘ سے اچھی طرح واقف ہے۔

عالَمگیروَبا(Pandemic)

پینڈیمِک یا عالَمگیر وَبا ، کورونا سے پہلے ماسوائے شعبہ صحت سے وابستہ لوگوں کے بہت ہی کم افراد اس لفظ سے واقف تھے۔  کووڈ سے پہلےعالمی ادارہ برائے صحت نے 2009 میں H1N1( سوائن فلو) کو عالگمیر وبا قرار دیا تھا، لیکن یہ وبا پاکستان میں اتنی زیادہ نہیں پھیلی اورلیکن اس کا علاج بھی جلد ہی تلاش کر لیا گیا تو لفظ Pandemic عام الناس کی زبان پر اتنی جلدی نہیں چڑھ سکا۔

Covidiot

کووڈ 19 کے دوران کچھ نئے الفاظ بھی تخلیق کیے گئے یے. جن میں سے ایک لفظ Covidiot ہے۔ کووڈ (کورونا)اور ایڈیٹ(احمق) کے آخری تین حروف سے بنا یہ لفظ ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ کورونا کے دوران صحت عامہ کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہیں۔

سماجی دوری(Social distancing)

کورونا سے پہلے سماجی دوری اور اس لفظ کا استعمال بھی بہت معیوب سمجھا جاتاتھا۔ ہم میں سے بیشتر لوگ اس لفظ’سماجی دوری‘ سے خال خال ہی واقف تھے، لیکن کورنا کی مہربانی سے سماجی قربت اب سماجی دوری میں تبدیل ہوچکی ہے۔ پہلے کسی سے فاصلہ رکھنا معیوب سمجھا جاتا تھا اور اب کسی کے قریب جانا معیوب سمجھا جا رہا ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں