20

ٹائیفائیڈ بخار سے کیسے چھٹکارا پائیں؟

یہ بخار بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بچے بہت زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں یا علاج کے بغیر بھی وفات پا سکتے ہیں۔

ٹائیفائیڈ بخار سالمونیلا ٹائضمی کی وجہ سے ہونے والی ایک بیکٹیریل بیماری ہے۔ بخار کی یہ قسم ترقی یافتہ ممالک میں ایک اہم خطرہ بن چکی ہے۔ سالانہ عالمی سطح پر ٹائیفائیڈ بخار کے 21 ملین اور اموات کے دو لاکھ دو ہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔

ٹائیفائیڈ بخار ایک مہلک مرض اور چھوت کی بیماری ہے جس شخص کو ٹائیفائیڈ بخار ہو جائے اس کے جسم کا درجہ حرارت 102 سے 104 ڈگری فارن ہائیٹ تک ہو جاتا ہے۔ اس بیماری کا زیادہ تر حملہ بارش، گرمی اور خزاں کے موسم میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ گندا پانی بھی ٹائیفائیڈ کا سبب بنتا ہے۔ یہ جراثیم ٹائیفائیڈ کے مریض سے دوسرے صحت مند انسان میں بھی منتقل ہو جاتا ہے اور وہ بھی اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ بازار میں پڑی کھلی یا خراب اشیا کھانے سے بھی اس بیماری میں مبتلا ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے۔ ٹائیفائیڈ بخار عام طور پر گنجان آبادی والے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

نشانات و علامات

بیماری شروع ہونے کے بعد سات دن سے چودہ دن کے اندر علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ کچھ بچوں میں دو مہینے تک بخار آہستہ آہستہ 39 سے 40 ڈگری تک بڑھتا ہے۔ سردرد ، گلے کی خرابی، تھکاوٹ، طاقت میں کمی، قبض، ڈائیریا، پیٹ اور چھاتی پر عارضی گلابی دھبوں کا پڑنا بخار کی علامات جیسے ظاہر ہوں فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھایا جائے لیکن اگر علاج سے غفلت بڑھتی جاتی ہے تو بخار شدید پیچیدگی پیدا کرسکتا ہے۔

 وجوہات

ٹائیفائیڈ بخار بیکٹیریا سے پیدا ہوتا ہے۔ انفیکشن مریض کا بچا ہوا کھانا کھانے اور پانی پینے سے پھیلتا ہے۔ ایسا مریض جو غسل خانہ استعمال کرنے کے بعد ہاتھ نہیں دھوتا اور دوسروں کو کھانا دیتا ہے وہ بھی بیماری پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

 خطرے کا عنصر

اگر ایسے ملک میں سفر کر رہے ہیں جہاں معیادی بخار پھیلا ہوا ہے تو خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے جن لوگوں میں قوت مدافعت کی کمی ہوتی ہے وہ جلدی انفیکشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔

 پیچیدگیاں

اگر معیادی بخار کا جلدی علاج شروع نہ کیا جائے تو درج ذیل پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:

1۔بڑی آنت سے خون کا اخراج اور مزید پیچیدگیاں۔

2۔ وزن میں شدید کمی، 3۔ شدید قسم کا ڈائیریا، 4۔ تیز بخار ، 5۔ بے حسی کا طاری ہونا، 6۔ بے چینی اور فریب نظر۔

 ٹیسٹ

اگر آپ کو مندرجہ ذیل علامات ہیں اور بخار ختم نہیں ہو رہا ہے تو پاخانہ ، خون اور پیشاب کے ٹیسٹ سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ٹائیفائیڈ بخار تو نہیں ہے۔

 احتیاطی تدابیر

مریض کا بخار اترنے میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ جب تک بخار پوری طرح سے نہ اتر جائے اور صحت یابی نہ مل جائے مریض کو آرام کروائیں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی پلائیں اور مختلف مشروبات بھی پلائیں۔

بخار کو چیک کرتے رہیں، درد اور بخار میں افاقہ ہونے کے بعد بھی احتیاط جاری رکھیں کیونکہ یہ دوبارہ بھی آسکتا ہے اور دوبارہ آنے کی صورت میں بہت پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

مریض کو ٹائیفائیڈ سے محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ پرہیز ہے۔نیچے دیے گئے چند سادہ اقدامات جنھیں کرکے بیماری سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

1۔صرف بوتل کا پانی یا پانی ابال کر پئیں۔

2۔اپنے ہاتھ صاف رکھیں، ہر بار کھانے سے پہلے ہاتھوں کو صابن اور گرم پانی سے دھوئیں، اگر پانی دستیاب نہ ہو تو الکحل والا سینیٹائزر استعمال کریں۔

3۔ایسے پھل اور سبزیاں کھائیں جو چھیلے جاسکیں ، ایسے پھل کھائیں جو خود چھیل سکیں مثلاً کیلا۔

4۔ مدافعتی دوا لیں اور اپنے بچوں کو ویکسین ضرور لگوائیں۔

 ٹائیفائیڈ کی ہومیوپیتھک ادویات

ٹائیفائیڈ صفراوی ہو:

برائی اوینا، چیلیڈونیم، ہائیڈراسٹس، لپ ٹنڈرا، مرکیورس، نکس وامیکا۔

ٹائیفائیڈ میں قبض ہو:

برائی اوینا، ہائیڈراسٹس، نکس وامیکا، اوپیم

ٹائیفائیڈ میں ہذیان ہو:

اگاری کس، آرسینی کم، بیپ ٹیشیا، بیلاڈونا، بائیوسائی مس، اوپیم، فاسفورس، رسٹاکس، سٹرامونیم

ٹائیفائیڈ میں اسہال (دست) آئیں

آرنیکا، آرسینی کم، بیپٹیشیا، لوپرم آرسی، لاکے سس، مرکیورس سالو، فاسفورک ایسڈ، رسٹاکس

دست بے اختیار نکل جائیں:

ایپس، آرنیکا، آرسینی کم، بائیوسائی مس، میوراٹک ایسڈ، فاسفورک ایسڈ، رسٹاکس

ٹائیفائیڈ میں نکسیر آئے:

ایکونائیٹ، برائی اوینا، کروکسی، ہمامیلس، اپی کاک، میلی لوٹس، فاسفورک ایسڈ، رسٹاکس۔

ٹائیفائیڈ میں نقص ہاضمہ ہو:

برائی اوینا، کیتھرس، کاربوویجی، ہائیڈراسٹس، مرکیورس، سالو، نکس وامیکا، پلٹسلا

ٹائیفائیڈ بخار کے ساتھ سردرد ہو:

بیلاڈونا، برائی اوینا، جلسی میم، اوسائی، پلٹسلا، نکس وامیکا۔

ٹائیفائیڈ کے ساتھ جریان خون ہو:

ایلومن، ایلومینا، آرسینی کم، بیپ ٹیشیا، کاربوویجی، چائنا، کروٹلیسی، ہمامیلس، اپی کاک، نری اوزوٹ، لاکے سس، ملی فویم، میوراٹک ایسڈ، نکمس ماشکاٹا، فاسفورک ایسڈ، سی کیل

ٹائیفائیڈ کے ساتھ نیند کا نہ آنا:

بیلاڈونا، کافیہ، جلسی میم، بائیوپائی مس، ہائیڈرو، برومیٹم، اوپیم، رسٹاکس۔

ٹائیفائیڈ کے ساتھ شکایات:

ایپس، مرکیورس کار

ٹائیفائیڈ کے ساتھ پھوڑوں کا مجموعہ:

آرسینی کم، ہیپر، سیلشیا

ٹائیفائیڈ میں ورم ہو جائے پردۂ شکم پر:

آرسینی کم، بیلاڈونا، کاربوویجی، کالوسنتھ، رسٹاکس، مرکیورس کار

ٹائیفائیڈ کے ساتھ نمونیہ بھی ہو جائے اور کھانسی ہو:

ایٹم ٹارٹ، آرسینی کم، بیلاڈونا، برائی اوینا، ہائیو سائی مس، اپی کاک، فاسفورس، پلٹسلا ،رسٹاکس،سلفر

ٹائیفائیڈ میں عضلات دکھتے ہوں:

آرنیکا، بیپ ٹیشیا، برائی اوینا، پلسی میم، رسٹاکس۔

ٹائیفائیڈ میں پیشاب زیادہ آئے:

جلسی میم، میوراٹک ایسڈ، فاسفورک ایسڈ

ٹائیفائیڈ میں قرینہ پر زخم:

ایپس، اپی کاک

تمام دوائیں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کریں۔

 

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں