28

ٹیسٹ سیریز کیلیے گیئر تبدیل، کرکٹرز کی بھرپور مشقیں شروع

اوپننگ جوڑی کے معاملے پر سنجیدگی سے غور، بابر اعظم اور ہیڈکوچ ممکنہ کمبی نیشن پرمشاورت کرتے دکھائی دیے۔ فوٹو: فائل

اوپننگ جوڑی کے معاملے پر سنجیدگی سے غور، بابر اعظم اور ہیڈکوچ ممکنہ کمبی نیشن پرمشاورت کرتے دکھائی دیے۔ فوٹو: فائل

 لاہور:  ٹیسٹ سیریز کیلیے گیئر تبدیل کرتے ہوئے  قومی کرکٹرز نے بھرپور مشقیں شروع کر دیں۔

دورہ جنوبی افریقہ میں ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے بعد گرین شرٹس نے مخصر فارمیٹ کے میچز میں زمبابوے پر 1-2سے برتری ثابت کی،البتہ دوسرے میچ میں عالمی رینکنگ میں نمبر 12ٹیم سے شکست کا داغ نہیں دھل سکا۔

مڈل آرڈر کی ناکامی کے باوجود گذشتہ فتوحات میں اہم کردار ادا کرنے والے بابر اعظم اور محمد رضوان نے آخری میچ میں بھی توقعات کا بوجھ اٹھایا جس کی وجہ سے دیگر کو آزمانے کی ضرورت نہیں پڑی، زمبابوے کیخلاف 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا معرکہ جمعرات کو ہرارے اسپورٹس کلب میں شروع ہوگا۔

طویل فارمیٹ کے اسپیشلسٹ11کرکٹرز 21اپریل کو ہی زمبابوے پہنچ گئے تھے، انھوں نے کورونا ٹیسٹ کی رپورٹس منفی آنے کے 23تاریخ کو الگ ٹریننگ کا سلسلہ شروع کردیا تھا، گذشتہ روز پاکستان سے آنے والے تمام کھلاڑیوں نے پہلے ہی ہرارے میں موجود اسکواڈ کو جوائن کرلیا، گذشتہ روز ٹیسٹ اسکواڈ میں بھی شامل وائٹ بال کے کھلاڑیوں نے اپنا گیئر تبدیلی کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب پاکستان میں قذافی اسٹیڈیم میں تربیتی کیمپ کے دوران ٹریننگ کرنے والے کرکٹرز نے بھی مقامی کنڈیشنز سے ہم آہنگی کیلیے مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا، ابتدا میں ہیڈ کوچ مصباح الحق نے کھلاڑیوں کو مختصر لیکچر میں مقامی کنڈیشنز اور ان میں بہتر کارکردگی دکھانے کیلیے ممکنہ پلان کا بتایا، نیٹ میں اوپنرز عابد علی، عمران بٹ کے ساتھ اظہر علی نے بھی نئی گیند سے طویل سیشنز کیے،ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں نے فاسٹ کے بعد اسپن بولنگ کا بھی سامنا کیا۔

فواد عالم نے کافی دیر تک دفاعی انداز اپنائے رکھنے کے بعد اسٹروکس کھیلے،مسلسل ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلنے والے کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان نے زیادہ وقت نیٹ میں نہیں گزارا،عبداللہ شفیق، آغا سلمان اور سعود شکیل کو بھی پریکٹس کا موقع ملا، دوسری جانب پیسرز میں حسن علی اور شاہین شاہ آفریدی پوری قوت سے برق رفتار گیندیں کرتے نظر آئے۔

تابش خان اور شاہنواز دھانی نے بھی ساتھ دیا، اسپنرز میں نعمان علی، محمد نواز، زاہد محمود اور ساجد خان نے مقامی پچز سے مطابقت پیدا کرنے کی مہم جاری رکھی، وکٹوں کو نشانہ بنانے کی مشق سمیت فیلڈنگ ڈرلز بھی کی گئیں، دوسری جانب کپتان بابر اعظم اور ہیڈکوچ مصباح الحق ممکنہ کمبی نیشن کے حوالے سے مشاورت کرتے نظر آئے، خاص طور پر اوپننگ جوڑی کے بارے میں طویل مشاورت کی گئی۔

یاد رہے کہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم آخری بار جنوری، فروری میں جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم سیریز میں ایکشن میں نظر آئی تھی،گرین کیپس نے 0-2سے کلین سوئپ کیا تھا،پہلے مقابلے میں فواد عالم کی مشکل وقت میں یادگار سنچری نے فتح میں اہم کردرا ادا کیا، دوسرے میچ میں حسن علی کی 10وکٹوں، پہلی اننگز میں فہیم اشرف کے 78رنز اور دوسری میں محمد رضوان کی سنچری کی بدولت کامیابی حاصل ہوئی۔

دونوں میچز میں اوپنرز عابد علی اور عمران بٹ ناکام رہے،زمبابوے کیخلاف پہلے ٹیسٹ کیلیے اظہر علی اور عابد علی سے اننگز کا آغاز کرانے کا آپشن موجود ہے، عمران بٹ کو شامل نہ کیا گیا تو مڈل آرڈر میں آغا سلمان اور سعود شکیل کو شامل کیا جاسکتا ہے،دوسری جانب یاسر شاہ کا خلا پْرکرتے ہوئے نعمان علی کا پارٹنر بننے کیلیے محمد نواز، زاہد محمود اور ساجد خان امیدوار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں