31

پاکستان سپر لیگ دبئی میں کیوں؟

گزشتہ برس بھی فرنچائزز نے پی ایس ایل کو یو اے ای منتقل کرنے کا کہا تھا تب تو بورڈ نہ مانا اب کیوں ایسا کرنے لگا ہے؟ فوٹو: فائل

گزشتہ برس بھی فرنچائزز نے پی ایس ایل کو یو اے ای منتقل کرنے کا کہا تھا تب تو بورڈ نہ مانا اب کیوں ایسا کرنے لگا ہے؟ فوٹو: فائل

’’وزیر اعظم عمران خان کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے ہم مکمل پی ایس ایل کو پاکستان لے آئے ہیں،ملکی میدان اب آباد ہی رہیں گے‘‘

’’پاکستان اب اپنی کوئی باہمی سیریز یو اے ای میں نہیں کھیلے گا،میچز ہوئے تو ہمارے ملک میں ہوں گے ورنہ نہیں ہوں گے‘‘

چیئرمین پی سی بی احسان مانی کے ایسے بیانات گذشتہ چند برس میں آپ کی نظروں سے ضرور گذرے ہوں گے،ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی شہریارخان اور نجم سیٹھی کے دور میں ہو گئی تھی مگر موجودہ حکام کریڈٹ لینے میں سب سے آگے نظر آتے ہیں، چلیں ان کی خوشی کے لیے مان لیتے ہیں کہ انھوں نے ہی ایسا کیا تو اب دوبارہ پاکستانی گراؤنڈز کو ویران کرنے پر کیوں تل گئے ہیں، ہمارا ملک اب انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی کے لیے محفوظ ہے ہمیں دنیا کو یہ سمجھانے میں برسوں لگ گئے، اب جب بڑی ٹیموں کے آنے کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے تو ہم کیوں خود اپنی محنت خاک میں ملا رہے ہیں۔

گزشتہ برس بھی فرنچائزز نے پی ایس ایل کو یو اے ای منتقل کرنے کا کہا تھا تب تو بورڈ نہ مانا اب کیوں ایسا کرنے لگا ہے؟اگر آپ نے لیگ کو منتقل کیا تو خود ملکی کرکٹ کو کئی قدم پیچھے لے جائیں گے،پھر آپ بھول جائیں کہ بڑی ٹیمیں یہاں آئیں گی، رواں برس انگلینڈ سے بھی یہ امید نہ رکھے گا کہ وہ ٹیم کو بھیجنے پر آمادہ ہوجائے گا، وہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ایک طرف آپ اپنی لیگ امارات منتقل کر رہے ہیں دوسری جانب ہم سے چاہتے ہیں کہ پاکستان میں آ کر کھیلیں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے،دنیا کے حالات اب بالکل تبدیل ہو گئے ہیں۔

پہلے دہشت گردی کے خوف سے ٹیمیں ہمارے ملک نہیں آتی تھیں مگر پھرسیکیورٹی فورسز نے قربانیاں دے کر امن ممکن بنایا اور اب تو رواں سال جنوبی افریقہ سائیڈ نے بھی دورہ کیا تھا،اب دنیا کا سامنا ایک ان دیکھے دشمن سے ہے، بڑی بڑی بندوقوں، سڑکیں بند کر دینے سے اس پرقابو نہیں پایا جا سکتا،احتیاط اور ویکسین ہی کوویڈ سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے، بھارت میں جو تباہی دیکھنے میں آئی اس کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی لالچی بھارتی کرکٹ بورڈ کو آئی پی ایل ملتوی کرنا پڑی،اب بائیو ببل توڑنے کی روزانہ نت نئی کہانیاں سامنے آ رہی ہیں۔

ہمارے ملک میں شکر ہے حالات اتنے خراب نہیں اس کے باوجود مسلسل 2 برس لیگ کو درمیان میں ہی روکنا پڑا،وجہ یہاں بھی قانون کی پابندی نہ کرنا بنی،جو بااثر اور طاقتور ہے اس کے لیے قانون الگ اور کمزور کے لیے الگ، جس طرح پی ایس ایل میں فرنچائزز اور کھلاڑیوں نے بائیوببل کی دھجیاں اڑائیں اس کا کچاچٹھا ڈاکٹر سہیل سلیم نے کھول دیا ہے،بجائے اپنے معاملات ٹھیک کرنے کے بورڈ خود لیگ کو یو اے ای لے جانے کا سوچنے لگا، شاید اسے خود اپنے آپ پر بھروسہ نہیں ہے کہ کراچی میں میچز کرائے تو کہیں پھر سے درمیان میں کوئی کیس آنے پر لیگ کو نہ روکنا پڑ جائے، اس سے اور بدنامی ہو گی،حالانکہ اب تو برطانوی کمپنی ریسٹراٹا کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں جس نے گذشتہ برس آئی پی ایل میں بھی کامیابی سے فرائض انجام دیے تھے۔

اس کی ٹیم بھی 2 بار کراچی آکر بائیو ببل کی تشکیل کے لیے ہوٹل اور اسٹیڈیم کا جائزہ لے چکی،آپ نے غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے الگ ہوٹل بک کرانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جس میں صرف پی ایس ایل سے وابستہ لوگ ہی موجود ہوں گے، اس کے باوجود کس بات کا ڈر ہے، اگر آپ سابقہ ریکارڈ کا جائزہ لیں تو جس دن نئے شیڈول پر فرنچائزز نے آمادگی کا اظہار کیا اور اب موجودہ وقت میں کراچی میں کوویڈ کیسز کم ہی ہوئے ہیں،اگر ببل سے باہر موجود ٹیم مالکان کھلاڑیوں کو جھپیاں ڈالیں،ہوٹل میں کھلاڑیوں کی فیملیز بغیر ٹیسٹ اور قرنطینہ کے آئیں یا سالگرہ پارٹیز میں باہر سے لوگ بلائے جائیں تو دبئی میں بھی کیسز سامنے آ سکتے ہیں، اصل بات قانون کی پاسداری ہے جو اگر کراچی میں ہو تو یہاں بھی لیگ کا انعقاد ممکن ہے۔

سنا ہے جب این سی او سی کے سامنے پی سی بی حکام نے پی ایس ایل کا معاملہ رکھا تو وہاں سے یہی جواب ملا کہ ہم ملک میں لاک ڈاؤن کا سوچ رہے ہیں اور آپ کو کرکٹ کی پڑی ہے، اگرلیگ کو باہر لے جانا ہے تو لے جائیں،بورڈ چاہتا ہے کہ این سی او سی کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلائے کہ اس کی ہدایت پر لیگ کو منتقل کر دیا مگر ابھی تک وہاں سے کوئی پریس ریلیز نہیں آئی ہے۔

ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ بھارت میں تباہی نے ہماری حکومت کو بھی خوف کا شکار کر دیا ہے کہ خدانخواستہ کہیں ہمارے ملک میں ایسے حالات نہ ہوجائیں، اس سے بچنے کے لیے ہی لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں، عید کی آمد آمد ہے، ہمارے لوگ ویسے ہی احتیاط نہیں کر رہے عیدپر مزید بے احتیاطی کا خطرہ ہے، اسی لیے این سی او سی کی ترجیحات میں ابھی کرکٹ دور دور تک موجود نہیں ہو گی۔

ہاں اگر حالات ٹھیک رہے تو مستقبل میں  ہو سکتا ہے وہ خود پی ایس ایل کی اجازت دے دیں، یو اے ای جانے پر پی سی بی کے اخراجات بھی بے تحاشا بڑھ جائیں گے،چارٹرڈ فلائٹس، گراؤنڈز کا کرایہ،مہنگے ہوٹلز وغیرہ جیب پر بوجھ بنیں گے،ویزے کا بھی بڑا مسئلہ ہے،پاکستانیوں پر تو پابندی ہے ہی جنوبی افریقی کرکٹرز کو اجازت دلانے کے لیے بھی بڑی کوشش کرنا پڑے گی،سب جانتے ہیں کہ پیسے کے لیے لیگ کو مکمل کرایا جا رہا ہے تو آپ کا اپنا پیسہ ہی ضائع ہوگا۔

اس سے اچھا یہ نہیں ہوگا کہ تھوڑا انتظار کر لیں،یہ درست ہے کہ آگے ونڈو کی تلاش مشکل ہے لیکن بورڈ کے بقراط کوئی نہ کوئی حل تلاش کر ہی لیں گے ،شاید آگے حالات کی بہتری پر چند ہزار شائقین کو بھی اسٹیڈیم آنے کی اجازت مل جائے، البتہ اگر ابھی لیگ کو پاکستان سے لے کر گئے تو یہ وقتی فائدہ پاکستان کرکٹ کے لیے مستقبل میں بہت نقصان دہ ثابت ہوگا،پیسے کے ساتھ اس پہلو کو بھی ذہن میں رکھیں ویسے بھی مانی صاحب اب بس چند ماہ ہی مزید چیئرمین رہنے والے ہیں یقینا وہ نہیں چاہیں گے کہ پاکستان سے کرکٹ دوبارہ یو اے ای لے جانے والے سربراہ کے طور پر انھیں یاد رکھا جائے ، فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے دیکھتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں