57

پاکستان پورٹیبل ایم آر آئی متعارف کرانے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا

آغا خان یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں ہائپرفائن سووپ ایم آر آئی متعارف کروایا جارہا ہے (فوٹو:انٹرنیٹ)

آغا خان یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں ہائپرفائن سووپ ایم آر آئی متعارف کروایا جارہا ہے (فوٹو:انٹرنیٹ)

 کراچی: پاکستان پورٹیبل ایم آر آئی سسٹم متعارف کرانے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا، آغا خان اسپتال میں پورٹیبل ایم آر آئی (میگنیٹک ریزوننس امیجنگ) سسٹم جیسی سہولت متعارف کروادی گئی۔

یہ پورٹیبل ایم آر آئی سسٹم براہ راست مریض کے سرہانے تک پہنچایا جاسکتا ہے جس کی مدد سے مریض کا ایم آر آئی کرنا بے حد آسان ہو گیا ہے۔ پورٹیبل ایم آر آئی مشین کی مدد سے متعدد بار مریض کے دماغ کی تصاویر باآسانی لی جاسکیں گی، پورٹیبل ایم آر آئی مشین انتہائی نازک صورتحال میں مبتلا مریضوں کے سرہانے تک لے جائی جاسکتی ہے۔

آغا خان یونیورسٹی اسپتال کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایشیا کا پہلا اور دنیا کا تیسرا ملک (بشمول امریکا) بن گیا ہے جہاں پورٹیبل ایم آر آئی (میگنیٹک ریزونینس امیجنگ) سسٹم جیسی سہولت متعارف کروائی جارہی ہے، یہ پورٹیبل سسٹم براہ راست مریض کے سرہانے تک پہنچایا جاسکتا ہے جس کی مدد سے مریض کا ایم آر آئی کرنا بے حد آسان ہو گیا ہے۔

آغا خان یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں ہائپرفائن سووپ ایم آر آئی متعارف کروایا جارہا ہے، امریکا کی فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ایم یو ایم ٹی اے ٹرائل کے تحت ہائپرفائن سووپ ایم آر آئی کی منظوری دی ہے۔ یہ ایم آر آئی حاملہ خواتین کو دی جانے والی خوراک اور غذائیت کی بنیاد پر نوزائیدہ اور شیرخوار بچوں کے دماغ کے حجم اور ساخت کے متعلق ابتدائی ترین معلومات فراہم کرے گا۔

آغا خان یونیورسٹی کی  ڈاکٹر فائزہ جہاں کہتی ہیں  ہم کافی عرصے سے اس امر سے واقف ہیں کہ غذائیت کی کمی سے دماغ کی ساخت پر فرق پڑتا ہے،  ہائپرفائن سووپ ایم آر آئی سے ہم پہلی مرتبہ اس بات کا مظاہرہ کر پائیں گے کہ ماں کے پیٹ میں بچے کو موزوں غذائیت کی فراہمی کس طرح غذائیت کی کمی کے باعث ہونے والے مسائل سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ہائپرفائن سووپ ایم آر آئی کے اس کے علاوہ بھی کئی استعمالات ہیں، پاکستان سمیت دنیا بھر کے اسپتالوں میں  اس وقت روایتی اور ایک جگہ پر نصب ایم آر آئی سسٹمز لگے ہوئے ہیں، روایتی ایم آر آئی مشینز شدید بیمار مریضوں کے لیے موزوں نہیں خصوصاً وہ جنہیں بستر سے ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ تک لانا آسان نہیں ہوتا اور ایسے مریضوں کے لیے بھی موزوں نہیں جو ایم آر آئی مشین کی آواز اور ہیئت سے خوف محسوس کرتے ہیں۔

 

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں