61

پلاسٹک کے ذرات اب پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچنے لگے

پلاسٹک کے خردبینی ذرات انسانی پھیپھڑوں کو کئی طرح سے نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

پلاسٹک کے خردبینی ذرات انسانی پھیپھڑوں کو کئی طرح سے نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

فلوریڈا: ہم جانتے ہیں کہ پلاسٹک ہزاروں برس تک تلف نہیں ہوتا اور اس کے باریک ٹکڑے ماحول میں برقرار رہتےہیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک کے ذرات پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ رہے ہیں اور وہاں خلیات کو تبدیل بھی کررہے ہیں۔

آلودگیوں میں اب مائیکروپلاسٹک سرِ فہرست ہیں، جو سمندر، خشکی اور ہوا میں تباہی پھیلارہے ہیں۔ اس ضمن میں فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی (ایف ایس یو) نے پلاسٹک کے بڑے ٹکڑوں سے گھل کرخارج ہونے والے باریک ذرات کا ماحولیاتی جائزہ لیا ہے۔  یہ ذرات ایورسٹ پہاڑ، قطبین اور انسانی فضلے میں بھی ملے ہیں۔

اب دنیا بھر میں مائیکروپلاسٹک اور انسانی اثرات پر تحقیق ہورہی ہے۔ اس سے قبل سائنس بتاچکی ہے کہ پلاسٹک سازی میں استعمال ہونے والے کیمیکل دماغی خلیات کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ اب اس ضمن میں ایف ایس یو نے تجربہ گاہی تحقیق میں بتایا ہے کہ پلاسٹک کے خردبینی ذرات انسانی پھیپھڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

سائنسدانوں ںے پیٹریائی ڈش میں انسانی پھیپھڑوں کے خلیات رکھے اور تصور کیا کہ اس طرح ہم سانس کے ذریعے باریک پلاسٹک پھیپھڑوں میں اتاررہے ہیں۔ انہوںن ے پولی اسٹائرین کے چند ذرات انسانی پھیپھڑوں کے خلیات (سیلز) پر رکھے تو چند دن بعد عجیب ماجرا دیکھا۔

انہوں نے دیکھا کہ پلاسٹک کے ذرات نے ایک جانب تو پھیپھڑوں کے خلیات کی ظاہری شکل تبدیل کردی اور خلیات کا استحالہ یعنی میٹابولزم بھی سست پڑنے لگا۔ اگرچہ پلاسٹک سے خلیات مرے نہیں لیکن وہ نارمل نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ  دیکھا گیا کہ پھیپھڑے کے خلیات ایک دوسرے سے دور جانے لگے۔ پہلے وہ کسی چادر کی طرح قریب قریب تھے لیکن پلاسٹک کے ذرات نے ان کے درمیان وقفہ پیدا کردیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ پلاسٹک کے ذرات نے خلیات کو ایک دائرے کی شکل میں گھیرلیا۔

تجربے سے وابستہ کیرسٹین گڈمین نے کہا کہ صرف 24 گھنٹے بعد ہی پلاسٹک نے خلیات کو گھیرنا شروع کردیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پلاسٹک پہلے سے متاثرہ افراد میں سانس کی بیماریاں پیدا کرسکتا ہے یا نہیں؟

ماہرین نے کہا کہ اگرچہ وہ خردبینی پلاسٹک کے انسانی خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہتے تاہم یہ ضروری ہے کہ سانس کے مریضوں اور نشوونما سے گزرتے ہوئے بچوں پر ان کے منفی اثرات کا بھرپور جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے بھرپور تحقیق پر زور دیا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں