67

پنشن کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوتا جارہا ہے، وزیر اعلی سندھ

ریٹائرڈ ملازمین کو یکمشت ادائیگی سمیت دیگر تجاویز زیر غور ہیں، مراد علی شاہ، سندھ اسمبلی میں بریفنگ (فوٹو : فائل)

ریٹائرڈ ملازمین کو یکمشت ادائیگی سمیت دیگر تجاویز زیر غور ہیں، مراد علی شاہ، سندھ اسمبلی میں بریفنگ (فوٹو : فائل)

 کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ پنشن کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوتا جارہا ہے اسی  لیے ریٹائرڈ ملازمین کو یکمشت ادائیگی سمیت دیگر تجاویز زیر غور ہیں، اس وقت کم سے کم اجرت 17 ہزار ہے اگر یہ کہیں اپلائی نہیں ہورہی تو قانون کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بات انہوں ںے جمعرات کو سندھ اسمبلی میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے وقفہ سوالات میں کہی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گریڈ 16 کی تنخواہ زیادہ ہے، جب تک سیلری اسکیل نہیں بڑھے گا تب تک ایڈہاک ریلیف دینا پڑے گا۔

جی ڈی اے کے رکن شہر یار مہر نے کہا کہ بلدیاتی اداروں میں بہت سے ملازمین کو کم سے کم اجرت کے حساب سے تنخواہ نہیں مل رہی ہیں جس پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں، کم سے کم اجرت 17 ہزار ہے، اگر یہ کہیں اپلائی نہیں ہورہی تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔

سید عبد الرشید کے سوال پر کہ فل ڈے پر کام کرنے والوں کو کم سے کم اجرت نہیں ملتی، مراد علی شاہ نے کہا کہ اس سے اتفاق کرتا ہوں، ہمارا سوشل سیکورٹی سسٹم زیادہ بہتر نہیں ہے، ہم نے 147  ارب روپے الگ رکھے ہوئے ہیں، پورا پاکستان اس پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ خسارہ موجود ہے پنشن کا طریقہ کار الگ ہے، سندھ سمیت ملک بھر میں دیکھا جارہا ہے کہ پنشن خسارے کو کیسے کم کیا جائے، ابھی ہم اپنے بجٹ سے اخراجات کو منظم کررہے ہیں، پینشن کا بوجھ اٹھانا حکومت کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے، حکومت سالانہ اربوں روپے پینشن کی مد میں اخرجات کرتی ہے اسی  لیے ریٹائرڈ ملازمین کو یکمشت ادائیگی سمیت دیگر تجاویز زیر غور ہیں۔

وزیراعلی سندھ نے پنشن فنڈز میں اربوں روپے کے فراڈ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 2011ء اور 2012ء میں پنشن کا فراڈ پکڑا گیا اور یہ فراڈ بینک اور محکمہ خزانہ کے عملے کی ملی بھگت سے ہوا، اس فراڈ کی تحقیقات کے لیے نیب کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت سندھ صوبے میں ترقیاتی کام کرا رہی ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کو اعتراض کس بات پر ہے؟ ترقیاتی کاموں پر اعتراض ہے؟ 2016ء سے 2019ء میں بھی صرف کراچی کے لیے میگا اسکیم آتی تھی لیکن وزیر اعلی سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے،انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے پاس وسائل ہوتے تو بہت زیادہ کام کرسکتے تھے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو جدید شہر بنانے کے لیے تین ہزار ارب روپے درکار ہیں، وسائل نہ ہونے کی وجہ سے رقم کم مختص ہوتی ہے، سپریم کی احکامات کے باعث ایم پی اے کی اسکیمیں نہیں لی جاسکتیں۔

ایم ایم اے کے رکن سید عبد الرشید نے کہا کہ ضلع جنوبی میں اربوں روپے کی اسکیموں پر توجہ نہیں دی جارہی، فنڈز موجود ہیں لیکن کام نہیں ہوتے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ الزام تراشی درست نہیں، ترقیاتی اور مرمتی کام بالکل ہورہے ہیں۔

مردم شماری کے معاملے پر انہوں ںے کہا کہ میں نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ اگر مشاورت نہیں کی گئی تو نتائج تسلیم نہیں کریں گے، میری بات نہیں مانی گئی اور سی سی آئی میں مردم شماری کو تسلیم کیا گیا، سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کوئی صوبائی حکومت کسی فیصلے سے متفق نہ ہو تو ریفرنس دائر کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے پی اور بلوچستان کے بھی اعتراضات تھے، ہم اپنا اعتراض جوائنٹ سیشن کو ریفر کر رہے ہیں اور اس معاملے پر وزیراعظم اور اسپیکر کو بھی خط لکھوں گا کیونکہ سندھ کی آبادی کو کم گنا گیا ہے۔

کالعدم ٹی ایل پی کے رکن یونس سومرو نے وقفہ دعا کے دوران حکومت پر شدید تنقید شروع کی تو اسپیکر نے ان کا مائیک بند کردیا۔ اس موقع پر اسی جماعت کی خاتون رکن ثروت فاطمہ نے کہا کہ ہماری جماعت کو کیوں کالعدم قرار دیا گیا حالانکہ ہمارا کوئی بیان ملک کی سلامتی کے خلاف نہیں تھا۔ وقفہ دعا ہونے کے باعث ثروت فاطمہ کا مائیک بھی بند کردیا گیا۔

اجلاس میں سندھ پبلک فنانس ایڈمنسٹریشن بل اپوزیشن کے شدید اعتراض کے باوجود منظور کرلیا گیا۔ قبل ازیں اس بل پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی۔ بل پر اعتراض کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رکن اسمبلی خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ اس صوبے کےساتھ مذاق ہو رہا ہے، 72 سال سے صوبے میں انٹرنل آڈٹ کا نظام ہی موجود نہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کا نام لیے بغیر کہا کہ ون مین شو کے ذریعے سارے اختیارات لینا چاہتے ہیں، محکمہ خزانہ اپنا کام ٹھیک کرنے کے بجائے لامحدود اختیار چاہتا ہے۔ وزیر پارلیمانی مکیش چاﺅلہ نے کہا کہ پبلک فنانس ایڈمنسٹریشن بل سےشفافیت آئےگی۔

بعد ازاں ایوان نے پبلک ایڈمنسٹریشن بل منظور کرلیا۔ ایوان میں موٹر وہیکل ترمیمی بل کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ اس بل پر قائمہ کمیٹی برائے ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کی رپورٹ پیش کی گئی۔

ایوان کی کارروائی کے دوران قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے اجلاس کے دوران نماز کے وقت وقفہ کرنے کی قرارداد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں