19

پودوں کا ارتقا کیسے ہوا؟

سائنس دانوں کے مطابق پودوں کا ارتقا گرین ایلجی اور دیگر کثیرخلوی مخلوقات سے جڑا ہے۔ فوٹو : فائل

سائنس دانوں کے مطابق پودوں کا ارتقا گرین ایلجی اور دیگر کثیرخلوی مخلوقات سے جڑا ہے۔ فوٹو : فائل

ارتقا کے حوالے سے گفتگو عموماً جانوروں اور انسانوں کے ارتقا میں الجھی رہتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ پودوں کا ارتقا کیسے ہوا؟ اور کیا پودے اور جانوروں کا جدِ ابجد ایک ہی ہے؟

ارتقا پر گفتگو مدت پہلے ہڈیوں، کھوپڑیوں اور ڈھانچوں کی اشکال سامنے رکھ کر اس نظریے کی درستی یا نادرستی کے گرد گھوما کرتی تھی۔ پھر ڈی این اے دریافت ہوا، تو ’ مسنگ لنکس ‘ والا معاملہ جیسے حل ہوگیا۔

تمام جانوروں کے درمیان ڈی این اے کا فرق اور یکسانیت ان کے جدِ ابجد کے ایک ہونے کی دلیل دینے لگیں۔ تاہم اس تمام گفتگو میں شاید آپ نے یہ سوال نہ دیکھا ہو کہ پودے بھی تو زندہ ہیں، تو کیا پودے جانوروں کے ’رشتہ دار‘ ہیں؟

پودوں میں ارتقا کیسے؟

سائنس دانوں کے مطابق پودوں کا ارتقا گرین ایلجی اور دیگر کثیرخلوی مخلوقات سے جڑا ہے۔ گو کہ اس وقت بھی بہت سی قدیمی سبز مخلوقات زور و شور سے جی رہی ہیں، مگر ان میں آج بھی ایک ارتقائی سفر مسلسل جاری ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ایک ارب سال پہلے میٹھے پانیوں میں کثیر خلوی فوٹو سینتھیٹک ایوکاریوٹیس کی آبادیاں ہوتی تھیں۔ یہ پیچیدہ کثیرخلوی فوٹوسینتھیٹک مخلوقات آٹھ سو پچاس ملین برس قبل یعنی پری کیمبرین عہد میں پانی سے باہر یعنی خشکی پر رہنے لگیں۔

یہ بات واضح رہے کہ فوٹو سینتھیسس ہی وہ عمل ہے، جس کے ذریعے پودے سورج کی روشنی میں اپنے لیے خوراک تیار کرتے ہیں جب کہ اس عمل کے دوران وہ آکسیجن کا اخراج جب کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا انجذاب کرتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشکی کے پودے ایمبریوفیٹ کے اوڈوویکین عہد یعنی چار سو ستر ملین برس قبل اور وسطی ڈیوونین عہد یعنی تین سو نوے ملین برس قبل میں شواہد ملتے ہیں۔

جانوروں اور پودوں کا ڈی این اے

اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ پودے اور جانور زمین پر موجود قریب نوے فیصد دیگر مخلوقات کے مقابلے میں ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہیں۔ پودوں اور جانوروں، دونوں کا خلیات ایوکاریوٹیس ہیں۔ یعنی ایسے خلیات جن کے مرکز میں نیوکلیس ہوتا ہے۔

بیکٹیریا اور ارچیا وغیرہ کے مقابلے میں پودوں اور جانوروں کا خلیاتی ڈھانچا ایک سا ہے۔ اسی طرح کئی یک خلوی ایوکاریوٹیس ایسے بھی ہیں، جو جانوروں اور پودوں کے باہمی قرب کے مقابلے میں ان دونوں کے قریب ہیں۔ یعنی پودوں اور جانوروں کا نسب غالبا انہیں خلیات پر جا کر مل جاتا ہے۔

اسی بنا پر پودے اور جانوروں کئی بنیادی امور میں ایک سے ہیں۔ دونوں بالکل ڈی این ای کی نقل بنانے کے لیے ٹھیک ایک سا انزائم استعمال کرتے ہیں اور دونوں میں پروٹین پیدا کرنے کے لیے رائبوسومز بالکل ایک سے ہیں۔ یہ وہ خواص ہیں جو بیکٹریا اور اکیا میں نہیں مگر پودوں اور جانوروں میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔ جانوروں اور پودوں دونوں کے خلیات میں نیوکلیائی ہوتا ہے اور کروموسومز لینیئر پیکیج ایک سے پروٹینز سے بنا ہوتا ہے۔

معمولی فرق؟

پودوں اور جانوروں میں بنیادی فرق فوٹو سینتھیسس ہے۔ مگر یہ فرق بہت بڑا نہیں۔ پودوں کے خلیات میں کلوروپلاسٹ ہوتا ہے، جب کہ جانوروں کے خلیات میں یہ عنصر نہیں ہوتا۔ تاہم یہ بات نہایت مزے دار ہے کہ کلوروپلاسٹ ایڈوسیمبیوٹک سینابیکٹیریا کے ارتقا سے پیدا ہوا جب کہ جانوروں میں بھی ایڈوسیمبیونٹس پایا جاتا ہے اور جانوروں میں بھی اس کی موجودگی ٹھیک پودوں والی ہی وجوہ کی بنا پر ہے۔

یہ فقط اتفاق ہے کہ پودوں کے جدِ ابجد نے ایڈوسیمبیوٹک حاصل کر لیا، جس کے ذریعے وہ فوٹوسینتھائز کرنے لگے جب کہ جانور ایسا نہ کر پائے۔( بشکریہ وائس آف جرمنی )

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں