22

پی ایس ایل، کنگز پوائنٹس ٹیبل پر حکمرانی برقرار رکھنے کیلیے تیار

بابرکی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھائیں گے،عمادوسیم لیگ میں کارکردگی کی بدولت قومی ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

بابرکی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھائیں گے،عمادوسیم لیگ میں کارکردگی کی بدولت قومی ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

پی ایس ایل 6کے باقی میچز میں کراچی کنگز پوائنٹس ٹیبل پر حکمرانی برقرار رکھنے کیلیے تیار ہیں.

پاکستان کرکٹ کی سب سے بڑی ویب سائٹ www.cricketpakistan.com.pk کے پروگرام ’’کرکٹ کارنر ود سلیم خالق‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سابق قومی کپتان وسیم اکرم نے کہاکہ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست کراچی کنگز کی پہلے مرحلے میں کارکردگی ماضی بن گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کئی ماہ پہلے ٹاپ پر تھے،چاہتے تو یہی ہیں کہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رہے بہرحال اب نیا ٹورنامنٹ، نیا ماحول اور نئی کنڈیشنز ہوں گی، ابوظبی میں نئی پچز پر ایک ہی گراؤنڈ میں تمام میچز کھیلنا ہیں، موسم گرم ترین ہوگا،ابھی سے درجہ حرارت 40 سے زائد ہے، ان باتوں سے فرق تو پڑے گا، مارٹن گپٹل تواپنے ملک کے ٹھنڈے موسم سے آ رہے ہیں، مجموعی طور پر نہ صرف ایک کراچی کنگز بلکہ تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں کو حالات سے مطابقت پیدا کرنا پڑے گی.

سابق کپتان نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کی وجہ سے کمبی نیشن بھی تبدیل ہوں گے، خوش قسمتی سے ہمیں اچھے متبادل مل گئے، مارٹن گپٹل، نجیب زدران اور تھشارا پریرا کی خدمات حاصل ہو گئی ہیں۔

وسیم اکرم نے کہاکہ ہم نے ری پلیسمنٹ ڈرافٹ میں مقامی نوجوان کرکٹرز کو ترجیح دی، قاسم اکرم باصلاحیت آل راؤنڈر اور مستعد فیلڈر بھی ہیں، ان کو قومی انڈر 19ٹیم کا کپتان بھی مقرر کیا گیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ سیریز ممکن نہیں ہوسکی،ہمارے پاس اس وقت 18کھلاڑی موجود ہیں،2 غیر ملکی کھلاڑی لینے کی سہولت تھی مگر بلاوجہ کسی کا انتخاب نہیں کرسکتے تھے کہ بینچ پر بٹھائے رکھتے،میرا خیال تھا کہ اس سے بہتر ہے کہ اپنے نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بابر اعظم تینوں فارمیٹ کا کپتان ہے جو کوئی معمولی بات نہیں، وہ سخت محنت کرتا ہے، پی ایس ایل میں بھی اپنی بیٹنگ سے لطف اندوز ہوتا ہے،ان کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھائیں گے، کراچی کنگز کا کمبی نیشن بہتر ہے، نتائج اوپر والے کے ہاتھ میں ہیں لیکن ہر میچ میں آخر تک لڑیں گے۔

کراچی کنگز کے کپتان عماد وسیم کو قومی ٹیم میں نہ کھلانے کے سوال پر سابق کپتان نے کہا کہ یہ کوچ اور کپتان ہی بہتر سمجھتے ہیں، میرے خیال میں تو آل راؤنڈر بیٹ اور بال سے اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں،شاید ان کے گھٹنے میں مسائل ہیں۔

ٹیم سے ان آؤٹ ہونا کیریئر کا حصہ ہے،وہ پی ایس ایل میں پرفارم کرکے واپس آ سکتے ہیں،  چیف سلیکٹر محمد وسیم کو کوئی ایسا کلچر لانا چاہیے جس میں کھلاڑی کو پہلے سے بتا دیں کہ آپ کو اس وجہ سے ڈراپ کر رہے ہیں۔وسیم اکرم نے کہا ہے کہ بڑے کام کیلیے قرنطینہ جیسی قربانیاں دینا پڑتی ہیں، فائیو اسٹار ہوٹل ہے مگر کمرے سے نکلنے کی اجازت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تازہ آکسیجن کے لیے کھڑکی بھی نہیں کھلتی، کھانا ڈبوں میں آتا ہے، کوئی کتنا ٹی وی یا سوشل میڈیا دیکھ سکتا ہے،میں نے زندگی میں کبھی اتنا وقت بستر پر نہیں گزارا،اہلیہ توکبھی دوستوں کو فون کرتا ہوں،زوم پر میٹنگز کر رہا ہوں، ابوظبی میں قرنطینہ کے دوران امید کرتا ہوں کہ کمرے کی کھڑکی کھلے گی اور آکسیجن ملے گی، انھوں نے کہا کہ سب مشکلات اپنی جگہ لیکن ایک بڑے کام کے لیے قربانی دینا پڑتی ہے، پی ایس ایل ہم سب کے لیے اہم ہے۔

کوچنگ کاوقت نہیں ، پلیئرزکی بدتمیزی برداشت نہیں کرسکتا

فرنچائز کرکٹ میں کوچنگ مگر پاکستان ٹیم کے لیے ذمہ داریاں نہ سنبھالنے کے سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ کسی بھی قومی ٹیم کے لیے کام کرتے ہوئے سال میں 200 سے 250 تک دن دینا پڑتے ہیں، میں اپنی فیملی اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے اتنا وقت نہیں دے سکتا،میں سوشل میڈیا پر دیکھتا رہتا ہوں کہ کھلاڑی کس طرح اپنے کوچز سے بدتمیزی کرتے ہیں، کھیلنا تو پلیئر کو ہوتا ہے،کوچ کا اتنا قصور نہیں ہوتا جتنا ہم ٹھہرا دیتے ہیں، میں کسی کی بدتمیزی برداشت نہیں کر سکتا، میں کہتا ہوں کہ آپ کا جذبہ اپنی جگہ مگر سوشل میڈیا پر بدتمیزی نہ کیا کریں، ہم کسی کو ایک دن عرش پر پہنچاکر اگلے روز فرش پر گرا دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سابق کوچ مکی آرتھر کی 1،2 سیریز خراب گئیں تو پورا پاکستان ملکی کوچ کا مطالبہ کر رہا تھا، اب مصباح الحق کی صورت میں پاکستانی کوچ ملا تو وہ بھی پسند نہیں، شکستوں کا صرف کوچ ہی ذمہ دار نہیں ہوتا مگر ہم نتائج کے لیے انتظار نہیں کر سکتے، ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسا کوچ ہو جو دوسری ٹیموں کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر جیتتے جائے۔

بے اختیار پی سی بی کرکٹ کمیٹی کا کوئی فائدہ نہیں

وسیم اکرم نے کہاکہ پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی کا کوئی فائدہ نہیں، ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں، سلیم یوسف کے ساتھ معاملات پر غور کرتے اور سفارشات چیئرمین کو بھجوا دی جاتی ہیں، وہ اور ڈائریکٹرز فیصلے کرتے ہیں، یہ ایک طویل عمل ہے، مجھے نہیں لگتا کہ اس کا کوئی فائدہ ہوگا۔

زیادہ کرکٹ کھیلنے سے شاہین کی بولنگ میں نکھارآئے گا

وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ زیادہ کرکٹ کھیلنے سے ہی شاہین شاہ آفریدی کی بولنگ میں نکھارلانے کا موقع ملے گا، نوجوان پیسر پر کام کے بوجھ اور مستقبل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پیسر دونوں طرف سوئنگ کرتے ہیں، اسپیڈ اچھی اور قد بھی لمبا ہے،وہ پچ سے باؤنس بھی حاصل کرتے ہیں،شاہین میچ کی صورتحال کے مطابق بولنگ کر سکتے ہیں، میرے خیال میں تو ان سے ہی پوچھنا چاہیے کہ آرام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں،وہ جتنی زیادہ بولنگ کریں گے اتنا ہی سیکھنے کا موقع ملے گا۔

پس منظر میں رہ کربورڈکوچلانے کی باتیں سوشل میڈیا پر پڑھتارہتا ہوں

پس منظر میں رہ کر پی سی بی کے معاملات چلانے کے سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ میں ایسی باتیں سوشل میڈیا پر پڑھتا رہتا ہوں، صحافیوں کو خبر کے ذرائع کی تصدیق بھی کرنا چاہیے،میرے پاس وقت ہی نہیں کہ بورڈکے معاملات چلاؤں، پی سی بی کے پاس موجود چیئرمین، سی ای او اور ڈائریکٹرز وغیرہ کام کر رہے ہیں، میرا ان سے کوئی لینا دینا نہیں، کرکٹ کمیٹی میں اعزازی طور پر ہوں، البتہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے اگر کوئی تجویز مانگے تو ہمیشہ دستیاب ہوتا ہوں۔

عامر کی قومی ٹیم کو ضرورت ہے

وسیم اکرم نے کہا کہ محمد عامر کی قومی ٹیم کو ضرورت ہے، پیسر کو خود سوچنا چاہیے کہ مستقبل کاکیا پلان ہے،وہ تجربہ کار اور جوان ہیں، 5 سال فرسٹ کلاس کرکٹ نہ کھیلے تو کسی بھی بولر کے اعصاب طویل فارمیٹ کے لیے اتنے جاندار نہیں رہتے، انسان اپنے جسم کی حالت کو بہتر سمجھتا ہے۔

اسی لیے عامر نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا، اب ان کو مزید وضاحت دینے کے بجائے اپنی کرکٹ کھیلنا چاہیے، میرے خیال میں محمد عامر کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے قومی ٹیم میں جگہ بنتی ہے، تجربہ کار سینئرز کی موجودگی میں نوجوان بولرز کو گروم ہونے کا موقع ملتا ہے،میں خود بھی عمران خان سے بار بار پوچھتا تھا، اسی لیے کہتا ہوں کہ محمد عامر کی قومی ٹیم میں شمولیت ضروری ہے۔

ٹی20میں بطور اوپنر رضوان کے لیے جگہ بنائی گئی،تجربات کا وقت گذرگیا

وسیم اکرم نے کہا کہ محمد رضوان تینوں فارمیٹ میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں مگر ٹی 20میں بطور اوپنر ان کے لیے جگہ بنائی گئی، اس سے بیٹنگ آرڈر خراب ہوا، اوپنر نمبر 3 اور نمبر 5 پر بیٹنگ کر رہا ہے، اسی لیے ٹی ٹوئنٹی میچز میں ہم 140کے ٹوٹل تک محدود رہ جاتے ہیں، انگلینڈ کے خلاف سیریز سے قبل پاکستان کے ٹاپ 6کا فیصلہ ہوجانا چاہیے،مڈل آرڈر سمیت مسائل کا حل ضروری ہے۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی ٹاپ 4 ٹیموں میں شامل ہو مگر حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو ہم جیت ضرور جاتے ہیں مگر یہ متاثر کن نہیں ہوتی، یہ لگنا چاہیے کہ ہم ہار سے نہیں ڈر رہے، ہو سکتا ہے کہ ورلڈ کپ تک ایسی صورت پیدا ہو جائے مگر اس کے لیے کمبی نیشن کا ابھی فیصلہ کرنا ہوگا،تجربات کا وقت گزر چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں