24

پی ایس ایل یا کنفیوژن لیگ؟

پی ایس ایل میں واقعی اتنے مسائل چل رہے ہیں کہ اب تو یہ کنفیوژن لیگ لگ رہی ہے۔ فوٹو:فائل

پی ایس ایل میں واقعی اتنے مسائل چل رہے ہیں کہ اب تو یہ کنفیوژن لیگ لگ رہی ہے۔ فوٹو:فائل

پی ایس ایل کراچی میں ہوگی

پی ایس ایل دبئی میں ہوگی

پی ایس ایل ابوظبی میں ہوگی

پی ایس ایل نہیں ہو گی

پی ایس ایل5 جون سے شروع ہوگی

پی ایس ایل 4جون سے شروع ہوگی

پی ایس ایل 7 جون سے شروع ہوگی

سب کو ویزے مل گئے

بس 25 افراد کے ویزے باقی ہیں

ابوظبی سے تمام چیزوں کی اجازت مل گئی

ابوظبی سے  لینڈنگ کی اجازت نہیں ملی

پی ایس ایل کی ٹیمیں 26مئی کو روانہ ہوں گی

پی ایس ایل کی ٹیمیں 27 مئی کو روانہ ہوں گی

پی ایس ایل کی ٹیمیں دوپہر ایک بجے روانہ ہوں گی

پی ایس ایل کی ٹیمیں دوپہر تین بجے روانہ ہوں گی

پی ایس ایل کی ٹیمیں شام5 بجے روانہ ہوں گی

جنوبی افریقہ اور بھارت سے چارٹرڈ فلائٹس کو لینڈنگ کی اجازت نہیں ملی

جنوبی افریقہ اور بھارت سے چارٹرڈ فلائٹس کو لینڈنگ کی اجازت مل گئی

بقیہ میچزکا شیڈول 27مئی کو جاری کردیا جائے گا

بقیہ میچزکا شیڈول 29مئی کو جاری کردیا جائے گا

آپ سب نے ایسی خبریں ٹی وی پر دیکھی اور اخبارات میں پڑھی ہوں گی، شاید غصہ بھی آیا ہو کہ یہ میڈیا والے کیسی غلط خبریں دیتے رہتے ہیں، مگر یقین مانیے اس میں صحافیوں کا کوئی قصور نہیں، پی ایس ایل میں واقعی اتنے مسائل چل رہے ہیں کہ اب تو یہ کنفیوژن لیگ لگ رہی ہے، ان میں سے بیشتر معلومات بورڈ نے خود میڈیا کو جاری کیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیچارے خود نہیں جانتے کہ کیا ہو رہا ہے،شکر ہے ٹیمیں اب ابوظبی پہنچ چکی ہیں، امید ہے کہ ایونٹ کا بااحسن انداز میں انعقاد ہو جائے گا لیکن یقین مانیے پی سی بی نے سب کو بڑا مایوس کیا ہے۔

کمروں میں بند کھلاڑی بیحد پریشان رہے، ایک روز روانگی سے قبل رات 11 بجے پیغام ملا کہ صبح نہیں اب کل جائیں گے، اگلی شب 2 بجے میسیج آیا کہ فلائٹس میں دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی ہے، بہت سے کھلاڑیوں کوتو صبح اس کا علم ہوا،پھر یہ کہا گیا کہ شام 5بجے جائیں گے، ویسے تو ہم میڈیا والوں کی عادت ہے کہ سارے آپشنز دے کر کریڈٹ لیتے ہیں کہ میں نے تو پہلے ہی بتا دیا تھا لیکن اس بار بورڈ نے ہمارے باخبر ذرائع کو بے خبر ذرائع بنا دیا ہے۔

دراصل حکام معاملات سنبھال ہی نہیں پا رہے، رواں سال کا ایڈیشن آخری سانسیں لے چکا تھا، خود بورڈ نے پریس ریلیز میں منسوخی کا عندیہ دے دیا تھا کہ اچانک حکومتی سطح پر روابط نے ویزے کا حصول یقینی بنایا، پھر ویزوں میں مسلسل تاخیر ہوئی اور اقساط میں ملتے رہے،اس سے بڑا ستم کیا ہو گا کہ سرفراز احمد تک کو تاحال ویزا نہیں ملا اور وہ اپنی ٹیم کے ساتھ یو اے ای نہ جا سکے،اب ایک اور چارٹرڈ فلائٹ کی ایسے بات ہو رہی ہے جیسے کوئی بس کرائے پر لینی ہے، لوگ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہیں مگر ہمارا بورڈ ایسا نہیں کرتا، ماضی میں سیاسی کشیدگی کے ماحول میں بھارتی براڈ کاسٹرز پی ایس ایل کو بیچ منجھدار میں چھوڑ کر چلے گئے تھے، اس کے باوجود اب بھی پروڈکشن کریو میں بیشتر بھارتی شامل ہیں، وہاں ان دنوں کورونا نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔

یو اے ای میں صورتحال کنٹرول میں ہے، ایسے میں اگر وہ اپنے شہروں کو بچانے کیلیے بھارتیوں کو ویزا دینے سے گریزاں تھے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے، جنوبی افریقہ میں بھی وائرس کی نئی اقسام نے دنیا کو پریشان کیا ہوا ہے،ان کے بھی ٹی وی کریو اور پلیئرز کے ویزے حاصل کرنے میں دشواری ہوئی، خیر جیسے تیسے یہ مرحلہ عبور ہوا تو پھر لینڈنگ کی اجازت نہ ملی، بورڈ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکرگذار ہونا چاہیے جنھوں نے اعلیٰ سطح پر بات کر کے مسائل حل کرا دیے اور لیگ منسوخی سے بچ گئی۔

اس سے پہلے پاکستان کے بائیو ببل میں پھر ایک کیس سامنے آیا جب انور علی کورونا کا شکار نکلے، پرانی ٹیسٹ رپورٹ جمع کرانے پر نسیم شاہ کو توگھر بھیج دیا گیا تھا، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے حکام کی شاید اعلیٰ شخصیات سے دوستی نہیں ورنہ وہ بھی کہہ دیتے کہ جاؤ ہم نہیں کھیلتے، ہمارے پلیئر کو کیوں باہر کیا،وہ تو تیسری چارٹرڈ فلائٹ کی وجہ سے وقت مل گیا اور نسیم دوبارہ ببل میں آ گئے، ورنہ ایونٹ سے تقریباً باہر ہی ہو گئے تھے، امید ہے کہ اب اگر کسی بااثر فرنچائز کی جانب سے بھی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔

پی سی بی میں اس وقت کوئی لیڈر شپ ہی نظر نہیں آ رہی اسی لیے بار بار مدد کیلیے اعلیٰ حکومتی شخصیت کی جانب دیکھنا پڑ رہا ہے، شکر ہے کہ وسیم خان کا ’’ورک فرام ہوم‘‘ ختم ہوا اور وہ اب یو اے ای پہنچ چکے ہیں مگر پھر بھی معاملات قابو میں نہیں لگ رہے، مسلسل دو سال لیگ کو کورونا کیسز کی وجہ سے درمیان میں روکنا پڑااور اب بھی افراتفری کا ماحول ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیم اچھی نہیں ہے، اگر کراچی میں ایونٹ رکنے پر صرف ڈاکٹر سہیل سلیم کی قربانی کو کافی نہ سمجھا جاتا اور اصل قصورواروں کو سزا ملتی تو شاید اب معاملات بہتر ہوجاتے، دنیا بھر میں بڑے ایونٹس سے قبل پلان بی اور سی بھی بنائے جاتے ہیں، ہمارے یہاں تو پلان اے ہی موجود نہیں ہوتا، بس جیسے تیسے معاملات چل رہے ہیں۔

ٹھیک ہے بھارت میں بھی آئی پی ایل ملتوی ہوئی لیکن ان کے اور ہمارے حالات میں زمین آسمان کا فرق ہے، وہاں روزانہ ساڑھے تین لاکھ کیسز سامنے آ رہے تھے، ہزاروں اموات بھی ہوئیں، شکر ہے پاکستان میں صورتحال اتنی خراب نہیں ہوئی، اگر بدانتظامی نہ ہوتی اور قانون کی کمزور و طاقتور سب سے پابندی کرائی جاتی تو شاید لیگ کراچی میں ہی مکمل ہو جاتی، یوں کروڑوں روپے دینے کے باوجود یو اے ای کی منتیں بھی نہ کرنا پڑتیں، ہماری قوم جذباتی ہے۔

اسے حقائق بتاؤ تو منفی باتوں کا طعنہ دینے لگتے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ انھیں تفریح مہیا کرنے کیلیے میچز کرائے جا رہے ہیں حالانکہ اس کا مقصد پیسہ ہے، لیگ مکمل نہ ہوئی تو اسپانسرز و براڈ کاسٹرز کوئی بھی  رقم نہیں دے گا، اس کے علاوہ بھی بڑی رقم داؤ پر لگی ہوتی ہے، جس دن یہ خبر سامنے آئی کہ ’’فرنچائزز نے پی ایس ایل یو اے ای منتقل کرنے کی تجویز دے دی‘‘ تب ہی میں چونکا تھا کہ بورڈ نے ماحول بنوانے کیلیے خبرچلوائی کیونکہ فرنچائزز نے تو پہلے بھی کئی بار ایسا کہا مگر حکام نے بات نہیں مانی تھی،شاید بورڈ کو لگتا تھا کہ پاکستان میں میچز ہوئے تو پھر وہ سنبھال نہیں سکے گا، یو اے ای میں تو سختی بہت ہے وہاں سب خود ایس او پیز کی پابندی کریں گے،جہاں تک غیرملکی کرکٹرز کی بات ہے وہ تو یو اے ای میں بھی بہت کم اسٹارز ہی آ رہے ہیں۔

ان دنوں ملک میں وائرس کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے،کوشش کرتے تو یہاں لیگ کرا سکتے تھے،بھارت تو اپنی لیگ مکمل کرنے کیلیے جنوبی افریقہ سے سیریز ملتوی کرنے کا سوچ رہا ہے، ہم بھی افغانستان جیسی کوئی سیریز آگے بڑھا سکتے تھے،مگرجلد بازی میں ابوظبی جانے کا فیصلہ کیا گیا، خیر اب اللہ کرے کہ میچز کا اچھے انداز میں انعقاد ہو جائے اور لیگ وقت پر مکمل ہو، ویسے ہی بہت بدنامی ہو چکی اب مزید نہیں ہونی چاہیے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں