26

پی ایس ایل 6، یو اے ای میں مسائل کے انبار منتظر ہوں گے

چارٹرڈ فلائٹس اور ہوٹلز کے دگنے کرائے، گرمی کھلاڑیوں کا امتحان لے گی
۔ فوٹو:فائل

چارٹرڈ فلائٹس اور ہوٹلز کے دگنے کرائے، گرمی کھلاڑیوں کا امتحان لے گی
۔ فوٹو:فائل

 کراچی:  پی ایس ایل6 کی یو اے ای منتقلی پرمسائل کے انبار پی سی بی کے منتظرہوں گے۔

کراچی میں پی ایس ایل6 کو 14 میچز کے بعد بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے روک دیا گیا تھا، پی سی بی نے یکم جون سے شہرقائد میں ہی بقیہ میچز کرانے کا اعلان کیا ہے، عدم دستیاب کھلاڑیوں کے ری پلیسمنٹ ڈرافٹ بھی ہو گئے، البتہ اب ایونٹ کو متحدہ عرب امارات منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

چند روز قبل تمام 6 فرنچائزز نے مشترکہ طور پر پی سی بی کو خط لکھ کر مجوزہ فنانشل ماڈل کے حوالے سے مزید بات چیت کا کہا تھا، ساتھ ہی یہ بھی لکھا تھا کہ کورونا کی وجہ سے سندھ کی صوبائی حکومت ویسے ہی دباؤ کا شکار ہے، لہذا میچز کو کراچی سے یو اے ای منتقل کر دینا چاہیے،پانچویں ایڈیشن کے وقت بھی ایسی ہی تجویز دی گئی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

منگل کے روز بورڈ نے فرنچائزز کو خط لکھ کر ہفتے یا اتوار کو معاملے پر مزید بات چیت کے لیے ورچوئل میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ روز این سی او سی حکام نے میچز پاکستان سے منتقل کرنے کی تجویز سیاتفاق کر لیا، ٹی وی کریو کو بھی امارات میں میچز کے لیے تیار رہنے کا کہہ دیا گیا ہے،حتمی فیصلے کی صورت میں اسکواڈز کو چارٹرڈ فلائٹ پر لے جایا جائے گا۔

پی ایس ایل کے حوالے سے پی سی بی نے تاحال اماراتی کرکٹ حکام سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے،میچز منتقل کرنے سے اخراجات میں خاصا اضافہ ہو جائے گا، یو اے ای میں پاکستانی شہریوں کے داخلے پر پابندی ہے، ویزے کے حصول میں بھی مشکل ہو گی،رواں برس افغان ٹیم کو اسی وجہ سے اپنے کئی اسٹار کرکٹرز کے بغیر آئرلینڈ سے سیریز کھیلنا پڑی تھی۔

قومی ٹیم کو پی ایس ایل کے فورا بعد انگلینڈ بھی جانا ہے اس لئے شیڈول میں بڑی تبدیلی کرنا ممکن نہ ہوگا،پی سی بی کو اسٹیڈیم کے کرائے کی مد میں ہی کئی کروڑ روپے دینا ہوں گے، ماضی میں  یو اے ای میں میچز کی صورت میں ٹکٹوں کی ریونیو شیئرنگ کا معاہدہ تھا مگر اب بغیر شائقین کے میچز میں یہ بھی نہیں ہو سکے گا۔

اپنے ملک کے مقابلے میں ہوٹلز کے ریٹ دگنے ہوں گے، جون میں یو اے ای کی سخت گرمی بھی کھلاڑیوں کا امتحان لے گی،البتہ ایک فائدہ غیرملکی کھلاڑیوں کے حوالے سے ہوگا، موجودہ حالات میں وہ پاکستان کے مقابلے میں یو اے ای آنے میں زیادہ آسانی محسوس کریں گے جہاں کورونا پر خاصی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

دوسری جانب باضابطہ معاہدے ہوئے بغیر ہی  پی ایس ایل بائیو ببل کی تشکیل کیلیے برطانوی کمپنی  نے کام شروع کر دیا ہے، ریکی کیلیے ریسٹراٹا کی ٹیم 2 بار کراچی آ چکی جہاں اس نے نیشنل اسٹیڈیم اور مقامی ہوٹل کا جائزہ لیا،اسے انہی دونوں مقامات پر بائیو ببل کی تشکیل کرنا ہے،میچز کی امارات منتقلی پر کمپنی کو زیادہ مسائل نہیں ہوں گے کیونکہ گذشتہ برس آئی پی ایل کے دوران بائیو ببل کی تشکیل کا تجربہ حاصل ہے،ریسٹراٹا کا دبئی میں دفتر بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں