33

پی سی بی متنازع معاہدے کی وضاحتیں دینے لگا

سیٹلمنٹ ہی مالی و کمرشل لحاظ سے زیادہ موزوں اور لیگ کے مفاد میں تھی
۔ فوٹو:فائل

سیٹلمنٹ ہی مالی و کمرشل لحاظ سے زیادہ موزوں اور لیگ کے مفاد میں تھی
۔ فوٹو:فائل

 کراچی:  پی سی بی متنازع معاہدے کی وضاحتیں دینے لگا، ترجمان کا کہنا ہے کہ  کورونا وبا کی وجہ سے مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھ کر فیصلہ ہوا،سیٹلمنٹ ہی کمرشل اور مالی لحاظ سے زیادہ موزوں اور لیگ کے مفاد میں تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2019 میں پی ایس ایل کے وائرلیس موبائل ٹیلی فونی اینڈ ایس ایم رائٹس،ڈیجیٹل کلپس رائٹس،فینٹسی لیگ پلیٹ فارم اور ایپ ڈیولپمنٹ رائٹس کیلیے خلیف ٹیکنالوجیز سے تین  سالہ معاہدہ کیا تھا مگر معاملات اچھے انداز میں نہ چل سکے۔

23 نومبر 2020کو جاری کردہ پریس ریلیز میں پی سی بی کا کہنا تھا کہ کئی خلاف ورزیوں کے سبب خلیف ٹیکنالوجیز کا معاہدہ ختم کر دیا گیا ہے،اس میں رائٹس فیس کی عدم ادائیگی اورکئی بار یاد دہانی کے باوجود پیمنٹ سیکیورٹیز جمع نہ کرانا وجہ بیان کی گئی۔

بورڈ نے واجب الادا رقم کی ادائیگی اور نقصانات کے ازالے کیلیے عدالت سے رجوع کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا،حیران کن طور پر رواں برس پی ایس ایل کے مذکورہ حقوق دوبارہ خلیف ٹیکنالوجیز کو دے دیے گئے، اس نے پی ایس ایل کے لیے کرک وک نامی ویب سائٹ اور موبائل ایپ کا پلیٹ فارم استعمال کیا۔

نمائندہ ’’ایکسپریس کے اس سوال پر کہ خلیف ٹیکنالوجی  کو پی سی بی نے عدالت تک لے جانے کی دھمکی دی تھی،اس کے ساتھ پھرمعاہدہ کیسے کرلیا؟ بورڈ کی جانب سے وضاحت کی گئی کہ خلیف نے خود ہی پی سی بی سے عدالت سے باہر معاملات طے کرنے کیلیے رابطہ کیا تھا، اس میں ایگریمنٹ کے تحت رائٹس کی بحالی کا عمل بھی شامل تھا۔

نیا معاہدہ کرنے سے قبل ٹینڈر جاری کرنے کے سوال پر کہا گیا کہ طویل قانونی مذاکرات اور خلیف کی حتمی پیشکش کو دیکھتے ہوئے طے ہوا کہ اس سے اصل کنٹریکٹ کے تحت متوقع رقم کی مکمل ریکوری پی سی بی کو ہوسکتی ہے،پی ایس ایل2021 کے کلپ رائٹس کو دیکھتے ہوئے بھی اس کو موزوں خیال کیا گیا۔

کمپنی کے بلیک لسٹ نہ ہونے اور پی سی بی کو پرانی واجب الادا رقم ملنے کے حوال سے ترجمان نے کہا کہ کورونا وبا کی وجہ سے مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھا گیا، ریکوری کیلیے قانونی چارہ جوئی پر بھاری لاگت آتی، وقت اور وسائل کا ضیاع ہوتا،لہٰذا متعلقہ حکام نے فیصلہ کیا کہ خلیف کے ساتھ معاملات افہمام و تفہیم سے طے کرلیے جائیں۔

یہ بات بھی پیش نظر تھی کہ پی ایس ایل 2021کے انعقاد میں زیادہ وقت باقی نہیں،ان حالات میں سیٹلمنٹ ہی کمرشل اور مالی لحاظ سے زیادہ موزوں اور لیگ کے مفاد میں تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں