43

چھاتی کے سرطان کی درست شناخت کرنے والا بایو سینسر

اسپین کے ماہرین نے صرف ایک گھنٹے میں نتائج فراہم کرنے والا بایوسینسر تیار کرلیا ہے۔ فوٹو: فائل

اسپین کے ماہرین نے صرف ایک گھنٹے میں نتائج فراہم کرنے والا بایوسینسر تیار کرلیا ہے۔ فوٹو: فائل

اسپین: پاکستان سمیت چھاتی کے سرطان سے دنیا بھر میں اموات اور خواتین کی تکالیف میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس ضمن میں اسپین کے ماہرین نے ایک کم خرچ اور مؤثر بایو سینسر بنایا ہے جو بہت پہلے ہی اس مرض کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

اس ضمن میں کینسر کے قومی مرکز، بایو میڈیکل ریسرچ سینٹر اور کلینک ڈی ویلنسیا کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر کئی برس تک تحقیق کی ہے۔

بریسٹ کینسر کی بروقت شناخت سے علاج میں آسانی اور اموات میں کمی کی جاسکتی ہے۔ اس ضمن میں میمو گرافی ایک بہتر ٹیکنالوجی ہے تاہم اس ٹیسٹ کی اپنی حدود ہیں یعنی ایک جانب تو اشعاع (ریڈی ایشن) کا خطرہ رہتا ہے تو دوسری جانب یہ کم حساس ہوتا ہے۔

پھر اگر چھاتی کی بافتیں سخت ہوں تو میمو گراف بہت اندر کی خبر نہیں دے سکتا۔ اس ضمن میں کینسر کی ابتدائی شناخت کے دیگر طریقوں کی ضرورت ایک عرصے سے ہی محسوس کی جارہی تھی۔

بایو سینسر مائع (لیکوِڈ) بایوپسی کی طرز پر کام کرتا ہے۔ اس میں خون کا ٹیسٹ کینسر کی موجودگی کا پتا دے سکتا ہے۔ صرف 30 سے 60 منٹ میں یہ نتیجہ فراہم کرتا ہے اور استعمال میں آسان ہونے کے ساتھ ساتھ بہت کم خرچ بھی ہے جو خون کے پلازمہ میں سرطانی خلیات کی شناخت کرتا ہے۔

نینو پورس ایلیومینا جیسے نینو مٹیریئل سے بنا بایو سینسر miR-99a-5p  مائیکرو آر این اے کی شناخت کرسکتا ہے جو بریسٹ کینسر کی وجہ بنتا ہے۔ اگرچہ اس کے ٹیسٹ موجود ہیں لیکن وہ بہت مہنگے اور پیچیدہ ہیں۔

بایو سینسر کے خردبینی سوراخ (نینو پورس) پر ایک طرح کی حیاتیاتی ڈائی روڈامائن ڈالی جاتی ہے جسے اولیگو نیوکلیوٹائڈ سے مہربند کردیا جاتا ہے۔ جیسے ہی پلازمہ اس پر ڈالا جاتا ہے تو miR-99a-5p کی موجودگی میں روشنائی یا ڈائی خارج ہوتی ہے۔ اس سے معلوم چل جاتا ہے کہ کسی کو چھاتی کا سرطان لاحق ہے یا پھر وہ تندرست ہے۔

دیگر اداروں نے بھی اس اہم طریقے کو سراہا ہے اور اگلے مرحلے میں انسانوں پر اس کی آزمائش کی جائے گی۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں