31

چینی کمپنی کو ہزار سال پرانی نظم شیئر کرنے پر اربوں ڈالر کا نقصان

26 ارب ڈالر اثاثے والی کمپنی کے مالک وینگ چِنگ نے 1100 سال قدیم نظم پوسٹ کی جس کے بعد ان کی کمپنی کو ڈھائی ارب ڈالر نقصان سہنا پڑا ہے۔ فوٹو: فائل

26 ارب ڈالر اثاثے والی کمپنی کے مالک وینگ چِنگ نے 1100 سال قدیم نظم پوسٹ کی جس کے بعد ان کی کمپنی کو ڈھائی ارب ڈالر نقصان سہنا پڑا ہے۔ فوٹو: فائل

بیجنگ: کیا آپ یقین کریں گے کہ آج اطلاعات کے تیزرفتار دور میں ایک متنازعہ نظم شیئر کرانے سے اربوں ڈالر کی کمپنی کو خود اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔

چین میں غذائی اشیا تقسیم کرنے والی مشہور کمپنی مائی توان کے سی ای او، وینگ چِنگ نے گیارہ سو سال قبل لکھی گئی ایک نظم چینی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور ایک دن بعد ڈیلیٹ کردی۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ چینی حکومت نے اس نظم کو اپنے خلاف قرار دیا۔ اس کے بعد حکومت نے کمپنی کی بعض بے ضابطگیوں کو نوٹس لیا جو ایک نقصاندہ کریک ڈاؤن تھا۔

پیر کے روز کمپنی کے حصص 5.3 فیصد گرگئے بلکہ اگلے روز یہ شرح 9 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس طرح کمپنی کو کم سے کم ڈھائی ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وینگ نے اپنی پوسٹ چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم فین فاؤ پر پوسٹ کی تھی جو بعد میں ہٹادی گئی۔ انہوں نے اپنی صفائی میں کہا کہ وہ اپنی نظم سے ای کامرس صنعت کے درمیان سخت مسابقت اور خطرناک حریفوں کا حوالہ دے رہے تھے ناکہ ان کا نشانہ سرکار تھی۔

وینگ نے چند اشعار پر مبنی کلاسیکی نظم منتخب کی تھی جو چینی بادشاہ چِن شائی ہوانگ کے عہد میں کتابوں کو جلانے پر اس کی خاموشی کےردِ عمل میں ایک گمنام شاعر نے لکھی تھی۔ اس عمل میں وینگ یہ بھول گئے کہ چینی حکومت اس وقت بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری اور من مانی پر سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں انٹرنیٹ سینسر شپ بھی عروج پر ہے۔ اس سے قبل علی بابا کمپنی پر ضوابط کی خلاف ورزی پر دو ارب 80 کروڑ ڈالر کا جرمانہ بھی ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ چِن شائی شہنشاہ جدید اور متحدہ چین کے بانی بھی تصور کیا جاتا تھا لیکن وہ اپنی ذات میں بہت سخت اور آمرانہ مزاج کا حامل بھی تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں