64

ڈیلی میل نے گوگل سرچ انجن پرمقدمہ دائرکردیا

 مقدمے کے مطابق میل آن لائن ویب سائٹ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائٹ میں سے ایک ہے(فوٹو: فائل)

 مقدمے کے مطابق میل آن لائن ویب سائٹ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائٹ میں سے ایک ہے(فوٹو: فائل)

 نیویارک: برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ٹیکنالوجی جائنٹ گوگل پر سرچ کے نتائج میں ردو بدل کے الزامات عائد کرتے ہوئے کیس دائر کردیا ہے۔

خبری ویب سائٹ میل آن لائن اور ڈیلی میل کے نام جاری ہونے والے اخبار کے پبلشرایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز نے گوگل پر آن لائن ایڈورٹائزمنٹ پر بہت زیادہ کنٹرول رکھنے، دوسرے خبری اداروں کی سرپرستی کرنے اور ڈیلی میل کی اسٹوریز کے لنک کو نیچے لے جانےکے الزامات عائد کیے ہیں۔

مذکورہ کمپنی کی جانب سے  گوگل پر مبینہ طور پر یہ الزام بھی عائد کیاگیا ہے کہ اگر کوئی پبلشر اپنے مارکیٹ پلیس میں اشتہارات کے لیے زیادہ جگہ فروخت نہیں کرتا تو گوگل بہ طور’سزا‘ اس کی  رینکنگ میں کمی کردیتا ہے۔

ایسو سی ایٹڈ نیوز پیپرز نے کہا ہے کہ ہماری جانچ کے مطابق 2021 میں شاہی خاندان کی کوریج کو سرچ رزلٹس میں نیچے دکھایا گیا۔

ڈیلی میل کے مدیرایمرتیس پیٹر رائٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ گوگل سرچ انجن کی یہ مبینہ حرکت ’غیر مسابقتی‘ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے ایک نئی آن لائن اشتہاری تیکنک استعمال کی جس سے ہمارے اشتہاری ٹریفک کا بہاؤ گوگل سے زیادہ بہتر قیمت والے دوسرے ایڈ ایکسچینج کی طرف موڑ دیا جس کے بعد ڈیلی میل کی سرچ وزیبیلیٹٰی  گر گئی اور یہ ان کی طرف سے ہمارے لیے سزا تھی۔

نیویارک میں دائر کیے گئے مقدمے کے مطابق ڈیلی میل کی میل آن لائن ویب سائٹ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی ویب سائٹ میں سے ایک ہے اور صرف امریکا میں ہی اس کے 75 ملین یونیک وزیٹرز ہیں۔

دوسری جانب گوگل کے ترجمان نے ڈیلی میل کے دعوی کو یکسر غلط قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ ’ ہمارے ایڈ ٹیک ٹولز کا گوگل سرچ میں پبلیشرز کی ویب سائیٹ کی رینکنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے‘اور ہم عدالت میں اس بے بنیاد دعوی کا دفاع کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں