22

کامیاب دورہ سعودی عرب، خطے پر اہم اثرات مرتب ہوں گے

خصوصی طور پر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے تناظر میں اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

خصوصی طور پر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے تناظر میں اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

 اسلام آباد: ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کے حالیہ دورہ سعودی عرب کو سفارتی ،سیاسی و دفاعی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ یقینی طور پر اس دورے کے داخلی و خارجی سطح پر اثرات مرتب ہونگے۔

خصوصی طور پر افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے تناظر میں اس دورے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دورے سے واپسی کے بعد برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف  نکولس پیٹرک کی پاکستان آمد اور آرمی چیف سے انتہائی اہم ملاقات ہوئی ہے ۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اموراورعلاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں افغان امن عمل میں پیشرفت پر بھی بات چیت کی گئی، آرمی چیف نے کورونا سے نمٹنے میں تعاون پر برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاک فوج برطانیہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بہت قدرکرتی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستانی کوششوں کو سراہا۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماوں کی افغانستان روانگی اور افغان صدر اشرف غنی سے بھی اہم ملاقات ہوئی ہے ، ملاقات میں باہمی سلامتی و دفاع میں تعاون اور بارڈر مینجمنٹ کو مزید  مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پر امن افغانستان کا مطلب پر امن خطہ، بالخصوص پر امن پاکستان ہے،آئی ایس پی آر کے مطابق افغان صدر نے با معنی بات چیت پر آرمی چیف سے اظہار تشکر کیا اور افغان مفاہمتی عمل میں پاکستان کے مخلصانہ اور مثبت کردار کو سراہا۔

سفارتی تجزیہ کاروں کار ان سرگرمیوں کو انتہائی زیادہ اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ یقینی طور پر یہ سرگرمیاں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء اور اس کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں ہو رہی ہیں کیونکہ دوحہ امن معاہدے کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر ایک لمبا عرصہ مخمصے کا شکار رہنے کے بعد امریکی حکومت نے گزشتہ ماہ اپنی طویل ترین جنگ کا اختتام کرتے ہوئے نائن الیون کے 20 سال مکمل ہونے سے پہلے اپنی افواج کے انخلا کا عمل مکمل کرنے کا عندیہ دیا تھا جس کے تحت اب ستمبر میں افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء ہونے جا رہا ہے اور جوں جوں امریکی افواج کے انخلاء کی ڈیڈ لائن قریب آرہی ہے ویسے ویسے خطے میں سرگرمیاں تیز ہوتی جا رہی ہیں اور افغانستان  کے اندر بھی مختلف گروپس متحرک ہوگئے ہیں۔

ابھی چند روز قبل افغانستان مین بچیوں کے سکول پر  راکٹ لانچر حملوں کا دلخراش سانحہ رونما ہے جس میں درجنوں معصوم طالبات جان بحق ہوگئی ہیں، اس واقعہ سے افغان طالبان نے بھی نہ صرف لاتعلقی کا اعلان کیا ہے بلکہ اس پر تعزیت بھی کی ہے جبکہ عیدالفطر کے حوالے سے پیغام میں افغان طالبان کے امیر مولوی بیت اللہ اخونزادہ کا بھی بیان سامنے آیا ہے جس میں افغان طالبان نے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کی دوبارہ ترقی کیلئے تمام افغانوں کو اکٹھے ہونے کا کہا ہے ،جس سے یوں لگ رہا ہے کہ وہ گروپس جو بچیوں کی تعلیمات کے خلاف تھے  یہ ان کی کاروائی ہو سکتی ہے۔

ادھر داعش و القاعدہ کے متحرک ہونے کے خدشات بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں  اور لگ یہی رہا ہے کہ سب  امریکی افواج کے انخلاء پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے سفارتی حلقے سرگرم ہیں تاکہ امریکی افواج کے جانے کے بعد کہیں پھر سے بدامنی اور خانہ جنگی شروع نہ ہو جائے اور  فوجی انخلا کے فیصلے کے منطقی انجام تک پہنچنے میں تاخیر میں خدشات کی وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہ خدشہ بھی تھا کہ اگر امریکی افواج کو متحارب فریقوں کے مابین اقتدار کی تقسیم کئے بغیر واپس بلا لیا گیا تو طالبان کچھ ہی عرصہ میں پھر سے افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر قابض ہو سکتے ہیں اور وہاں القاعدہ کو دوبارہ منظم ہونے کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔

اِس حوالے سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی اپنا حالیہ ازبکستان، قطر، افغانستان اور تاجکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد واضح کر چکے ہیں کہ اگر امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تو امریکی فوج دوبارہ افغانستان میں واپس آ جائے گی۔

اْن کا مزید کہنا تھا کہ اگر طالبان نے افغان عوام کے ساتھ امن کی بجائے جنگ کو ترجیح دی تو ہم اپنے دوستوں کو اِس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اتحادی افواج کی واپسی کے بعد کچھ ماہ کا عرصہ انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے جس کے لئے افغان فریقین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر پائیدار امن اور عوام کی ترقی و خوشحالی کی خاطر کسی بھی قسم کی کشیدگی پیدا نہ ہونے دیں اور تمام امن عمل افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے مکمل کریں۔

دوسری جانب وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے ، تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ داخلی سطح  پر حکومت اور مقتدر حلقوں کے درمیان خیلج بھی وسیع ہوتی جا رہی ہے اور میاں شہباز شریف والے معاملے پر حالات مزید بگڑتے دکھائی دے رہے ہیں  اور کہا یہی جا رہا ہے کہ میاں شہباز شریف کی بیرون  ملک پرواز بلاوجہ نہیں ہوگی اس  پرواز کا مستقبل کی سیاسی صورتحال سے گہرا تعلق ہے، چونکہ ہمارے ہاں کسی بھی غیر معمولی پیشرفت پر سازشی تھیوریاں فوری طور پر جنم لینا شروع ہوجاتی ہیں شہاز شریف کے معاملے پر مختلف تھیوریاں چل رہی ہیں۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نئے گیم پلان کو حتمی شکل دینے کیلئے اور بڑے میاں صاحب کو منانے کیلئے شہباز شریف لندن یاترا کیلئے جانا چاہ رہے ہیں اور شہباز شریف کا دورہ لندن مقتدر قوتوں و میاں نوازشریف کے درمیان  فاصلے سمیٹنے کی ایک سعی  ہوگا جس میں ان ہاوس تبدیلی کے آپشن بھی شامل ہے جس کیلئے جہانگیر ترین گروپ فیصلہ کن کردار ادا کرے گا مگر  بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ایسی صورتحال بنتی ہے تو کپتان اسمبلیاں تحلیل کر سکتے ہیں مگر اس پر بھی حکومتی وزراء کے تحفظات ہیں اور انکا خیال ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں جس عوامی غیض و غضب کا پی ٹی آئیی کو سامنا کرنا پڑا ہے  ایسے میں اگر اسمبلیاں تحلیل ہوتی ہیں اور عام انتخابات ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی کیلئے دوبارہ حکومت میں آنا مشکل ہو جائے گا اور ابھی تو ضمنی انتخابات میں شکست کی وجوہات بھی سامنے نہیں آسکی ہیں۔

البتہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں ناکامی کی وجہ سے متعلق وزیراعظم عمران خان کو رپورٹ ارسال کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ناکامی کی وجہ ڈسکہ کے متعلقہ حلقے میں ترقیاتی کام نہ کروانا تھا، ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرل پنجاب کی جانب سے بھجوائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فنڈز جاری ہونے کے باوجود حلقے میں نہیں لگائے گئے، نہ ہی کوئی کام کروایا گیا جس سے حلقے کی عوام مایوس ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کی اندرونی سیاسی چپقلش بھی ناکامی کا باعث بنی ہے۔

دوسری جانب حکومت صورتحال کو بھانپتے ہوئے  اپنے پتے کھیلنا شروع ہوگئی ہے اور اب شہباز شریف کی بیرون ملک روانگی کیلئے ای سی ایل سے نام نکالنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان کر رکھا ہے۔

اب وزیراعظم عمران خان واپس آچکے ہیں اور اس پر پارٹی رہنماوں اور ترجمانوں کے اجلاس کی صدارت بھی کی ہے جس میں انہیں صورتحال بارے بریفنگ دی گئی ہے اور اب اگلے چند روز میں حکومت کی حکمت عملی سامنے آجائے گی جس پر مقتدر قوتوں کا ردعمل بھی ظاہر ہونا شروع ہو جائے گا  اور اب عمران خان پھر سے عوام سے ٹیلی فونک رابطہ کرنے جا رہے ہیں جس میں یقینی طور پر یہاں ملک کی موجودہ صورتحال اور اپنے مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیں گے وہیں وہ اپنے دورہ سعودی عرب سے متعلق بھی عوام کو اعتماد میں لیں گے۔

سیاسی و سفارتی حلقوں میں حالیہ دورہ کو مثبت قرار دیا جا رہا ہے اگرچہ مسئلہ کشمیر  پر اقوام متحدہ کی قرار ددادوں کے ذکر نہ ہونے سمیت کچھ معاملات پر خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں لیکن وزیراعظم پاکستان کے حالیہ دورہ سعودی عرب سے باہمی تعلقات میں گہرائی اور گرم جوشی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا نظر آرہا ہے جو دونوں برادر مسلم ملکوں کے لیے یقیناً خوش آئند ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں