47

کراچی میں پولیس آفس کے سامنے معطل سب انسپکٹر کی خودسوزی کی کوشش

سب انسپکٹرجھلس کرشدید زخمی ہو گیا

سب انسپکٹرجھلس کرشدید زخمی ہو گیا

 کراچی: آئی آئی چند ریگر روڈ پرواقع سینٹرل پولیس آفس کے سامنے معطل سب انسپکٹرنے خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگالی جس کے باعث معطل سب انسپکٹرجھلس کرشدید زخمی ہو گیا۔

آئی جی سندھ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی ٹی اینڈ ٹی کو ہدایت کی ہے کہ واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے اورانکوائری کی جائے کہ آخرکیا محرکات تھے کہ سب انسپکٹرنے یہ انتہائی اقدام اٹھایا۔

پیرکومیٹھادرتھانے کے حدودآئی آئی چندریگرروڈ پرواقع سینٹرل پولیس آفس کے سامنے پولیس سب انسپکٹرخود پرپیٹرول چھڑک کرخود سوزوی کی کوشش کے دوران جھلس کرشدید زخمی ہوگیا جسے فوری طورپرایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال کےبرنس وارڈ منتقل کردیا گیا جہاں پولیس سب انسپکٹرکی شناخت مظفرعلی چانڈیو ولد محمد علی کے نام سے کرلی گئی۔

اس حوالے سے ایس ایس پی سٹی سرفراز نواز نے بتایا کہ خود سوزوی کی کوشش کرنے والا پولیس سب انسپکٹرگلشن حدید کا رہائشی ہے اور او آئی سی انچارج ٹیلی کمیونیکیشن میرپورخاص میں تعینات تھا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ٹیلی کمیونیکیشن میں تعینات ایک خاتون ہیڈکانسٹیبل نے مظفرعلی چانڈیو کے خلاف شکایت کی تھی کہ مظفرچانڈیوبدعنوانی اورغیراخلاقی حرکتوں میں ملوث ہے جس پرڈی ایس پی ایازداوڑ نے انکوائری شروع کی جس کے دوران مظفرچانڈیو بد عنوانی میں ملوث پایا گیا۔

ڈی ایس پی ایازداوڑ نے انکوائری رپورٹ اعلیٰ حکام کوارسال کردی جس پراے ایس پی حیدر آباد نے بھی انکوائری شروع کی جس میں مظفرعلی کو قصوروارٹہرایا گیا اوراس سے تمام سرکاری مراعات واپس لیکر اسے معطل کرتے ہوئے سی پی او رپورٹ کرنے کاحکم دیا۔

پولیس حکام نے بتایا کہ خودسوزوی کرنے والے سب انسپکٹرکوسرکاری ایک ہائی روف گاڑی بھی ملی ہوئی تھی جو اس نے اپنے گھر گلشن حدید میں دے رکھی تھی اورمذکورہ ہائی روف اسکا بیٹا چلا رہا تھا کہ اس سے ٹریفک حادثہ ہوگیا جس میں ایک دودھ فروش جاں بحق ہوگیاتھا۔

اس واقعے کی انکوائری بھی مظفرعلی کے خلاف چل رہی تھی،مظفرعلی چانڈیوکو23 اپریل کومعطل کیاگیا تھا ۔ پیرکومظفرعلی چانڈیوسینٹرل پولیس آفس کے باہر پہنچا اور کسی سے ملاقات کیے بغیراچانک خود پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا لی ۔

مذکورہ پولیس آفیسر کا جسم 41 فیصد تک جھلس گیا ہے ۔اسپتال میں پولیس کے سینئر افسران موجود ہیں اور تمام ترطبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنارہے ہیں ۔ آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ٹی اینڈ ٹی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ مذکورہ پولیس آفیسر کو ہرممکن طبی سہولیات کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ اس واقعہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے اورانکوائری کی جائے کہ آخرکیا محرکات تھے کہ سب انسپکٹرنے یہ انتہائی اقدام اٹھایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں