41

کورونا لہر خطرناک رخ اختیار کرنے لگی، روک تھام کے لئے سخت اقدامات کی ضرورت

 کراچی: ملک بھر میں کورونا وائرس کی تیسری لہر خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔

مریضوں اور اموات میں اضافے کے بعد نئی پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے پاک فوج کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ صوبہ سندھ جہاں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورت حال دوسرے صوبوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر ہے وہاں صوبائی حکومت نے اہم فیصلے کرتے ہوئے صوبے بھر کے تمام جامعات، کالجز اور تمام اسکولز سمیت سرکاری دفاتر بھی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین گھروں سے کام کریں گے، اور سیکریٹریز اپنا ضروری اسٹاف دفتر بلائیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ میں اس وقت کورونا کے مثبت کیسز کی سب سے کم شرح ہے اور صحتیاب مریضوں کی شرح 94 فیصد ہے جب کہ پاکستان میں یہی شرح 84 فیصد ہے ۔ اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کورونا سے اموات کی شرح 2.7 جب کہ سندھ میں 1.75 فیصد ہے۔ اس سب کے باوجود ہم گھبرائے ہوئے اور پریشان ہیں۔

پچھلے 7 روز میں سندھ میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ہمارے صوبے میں اموات بھی بڑھی ہیں۔ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں سندھ نے بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کی تجویز رکھی تھی جو کہ نہیں مانی گئی، ہم نے کہا تھا وفاقی حکومت اقدام نہیں کرے گی تو ہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے انتباہ کیا ہے کہ اگر کیسز میں مزید اضافہ ہوا تو مارکیٹیں مکمل طور پر بند کی جا سکتی ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اعلان کیا کہ کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کو بند کیا جا رہا ہے، سرکاری دفاتر میں بھی صرف 20 فیصد ضروری اسٹاف کو بلایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاش لوگ ایس او پیز پر عمل پیرا ہوتے اور ماسک پہن لیتے، اس وقت صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، اور اگر عوام ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے تو حکومت کے پاس سخت فیصلے کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا۔

ادھر سندھ حکومت نے بھی تیزی سے بڑھتے کورونا وائرس کے پیش نظر فوج تعینات کرنے کی درخواست کر دی ۔ حکومت سندھ نے وفاقی وزارت داخلہ کو فوج کی تعیناتی کے لیے خط لکھ دیا۔ سندھ حکومت کی جانب سے وفاق کو لکھے گئے خط میں آرٹیکل 245 کے تحت فوج تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزارت داخلہ نے کورونا وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے صوبوں اور وفاقی اکائیوں میں پاک فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

لاہور: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے کورونا کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر کرفیو لگا کر فوری اور مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر دیا ۔طبی ماہرین پہلے ہی ان خدشات کا اظہار کر رہے تھے کہ عوام اور حکومت جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس میں کورونا وائرس کی تیسری لہر انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور ان کے یہ خدشات اب حقیقت بن کر سامنے آگئے ہیں ۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے اب ملک بھر میں کرفیو لگاکر مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔

صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن پروفیسر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا کا پھیلا 18 فیصد سے تجاوز کر چکا اور اسپتال بھرگئے ہیں، ہیلتھ سسٹم جواب دینے کے قریب ہے۔ پی ایم اے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ نجی میڈیکل کالجز سے منسلک اسپتالوں کو قومیا کر ایمرجنسی نافذ کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک لاکھ کی استعداد کے باوجود صرف 50 ہزار کے لگ بھگ ٹیسٹ کر رہی ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے جب کہ حکومت اب تک آکسیجن سلنڈر کی قیمت کا تعین بھی نہیں کر سکی ، جو مجرمانہ غفلت ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانیو ں نے کوروناایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کیا اس لئے پاکستا ن کو بھارت کے تجربہ سے سیکھتے ہوئے وباء کے بے قابو ہونے سے قبل لاک ڈاؤن کر دینا چائیے ورنہ اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

ان ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کو انسانی زندگی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا سکتی ۔ وزیر اعظم عمران خان انسانی ہمدردی کی بنیاد پربڑے شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے میں اس لئے تامل کر رہے ہیں کہ اس سے غریب اور دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہو گا جبکہ حکومت کے پاس غریب عوام کو ریلیف دینے کے وسائل بھی نہیں ہیں تاہم جن شہروں میں وباء کی تباہ کاریاں بڑھ گئی ہیں وہاں کوروونا ایس او پیز پر 100فیصد یا فوری لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ حکومت فوری طور پر کاروباری مراکز، شاپنگ مالز، غیر اہم خدمات اور پبلک ٹرانسپورٹ بند کرے جبکہ تعلیمی اداروں کی مکمل بندش کا اعلان کرے تاکہ صحت عامہ کے رہے سہے انفراسٹرکچر کو بچایا جا سکے۔

ملک میں آکسیجن کی بڑھتی ہوئی قلت اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں پر قابو پایا جائے تاکہ اس اہم گیس کی قلت سے صحت عامہ کا ایسا سنگین بحران پیدا نہ ہو جیسا کہ پڑوسی ملک میں ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک عوام وائرس کے سلسلہ میں رہنما اصولوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے حکومت کچھ بھی نہیں کر پائے گی تاہم سڑکوں اور بازاروں میں فوج کی موجودگی سے صورتحال میں کچھ بہتری کا امکان ہے اور اگر ماسک نہ پہننے والوں کو مو قع پر بھاری جرمانہ کیا جائے اور سخت سز ا دی جائے تو لوگ زیادہ محتاط ہو جائیں گے۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249کے ضمنی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔اس سے قبل الیکشن کمیشن حکومت سندھ اور ایم کیو ایم پاکستان سمیت مختلف جماعتوں اور افراد کی جانب سے الیکشن موخر کرنے کی درخواستیں مسترد کردی تھیں۔این اے 249 کی نشست پاکستان تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کے سینیٹر منتخب ہونے کے باعث خالی ہوئی تھی۔

29اپریل کو اس نشست پر مسلم لیگ (ن) کے مفتاح اسماعیل ،پی ٹی آئی کے امجد آفریدی اور پی ایس پی کے سید مصطفی کمال کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے قادر خان مندو خیل ،ایم کیو پاکستان کے حافظ مرسلین اور کالعدم تحریک لبیک کے نذیر احمد بھی میدان موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اپنی جیتی ہوئی اس نشست کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی۔

پی ٹی آئی کی مقامی قیادت امجد آفریدی کو ٹکٹ ملنے پر ناخوش ہے بظاہر تو ان کے اختلافات ختم ہوگئے ہیں لیکن دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ امجد آفریدی کی الیکشن مہم ا س طرح نہیں چلائی گئی ہے جو پی ٹی آئی کا خاصہ ہے۔ جہاں تک مسلم لیگ (ن) اور پی ایس پی کے بات ہے تو ان دونوں جماعتوں نے بھرپور انداز میں اپنی انتخابی مہم چلائی ہے اور اپنے کارکنوں کو متحرک رکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ مفتاح اسماعیل مستقل طور پر حلقے میں موجود ہیں اور برملا کہتے نظر آرہے ہیں کہ وہ لوگوں کو ”لولی پاپ” نہیں بلکہ ”ٹافی” دے رہے ہیں ۔ مفتاح اسماعیل کی بھرپور انتخابی مہم کے نتیجے میں ان کی پوزیشن مضبوط نظرآرہی ہے۔ادھر پی ایس پی کے مصطفی کمال اس الیکشن کے حوالے سے کافی پرامید ہیں۔

انہوں نے الیکشن موخر کرانے کی درخواستوں کی مخالفت بھی کی تھی ۔کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصطفی کمال اگر نشست پر کامیاب نہیں ہوتے ہیں لیکن وہ خاطر خواہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ بھی ان کی فتح سے ہی تعبیر ہوگا۔ بالخصوص اگر وہ ایم کیو ایم کے امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہیں تو ان کے پاس یہ بات کہنے کی گنجائش ہوگی کہ اردو بولنے والے ووٹرز کا پہلا انتخاب اب ایم کیو ایم نہیں بلکہ پی ایس پی ہے ۔کالعدم تحریک لبیک پاکستان کا بھی اس حلقے میں ووٹ بینک موجود ہے اور یہاں کی سندھ اسمبلی کی ایک نشست پر کالعدم ٹی ایل پی نے عام انتخابات میں کامیابی بھی حاصل کی تھی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں