69

کورونا وبا اور لاک ڈاﺅن کے باعث متعدد فنکار معاشی بدحالی کا شکار

متعدد فنکار معمولی محنت مزدوری کرکے گھر کا نظام چلانے پر مجبور

متعدد فنکار معمولی محنت مزدوری کرکے گھر کا نظام چلانے پر مجبور

بے روزگاری اور تنگ دستی کے سبب پنجاب کے مستحق فنکاروں نے حکومت سے فوری امدادی چیک جاری کرنے اور  روزانہ 2 گھنٹوں کے لئے تھیٹر کھولنے کی درخواست کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں جاری کورونا وائرس نے فنکاروں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے، عرصہ دراز سے تھیٹرز، سینما، پروڈکشن ہاﺅسز بند پڑے ہیں جس کا برا اثر شوبز سے وابستہ شخصیات پر پڑا ہے۔

ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق شوبز سے وابستہ افراد میں کچھ ایسے بھی ہیں جو گھر کا نظام چلانے کے لئے معمولی مزدوریاں کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک آرٹسٹ رم جھم زیر تعمیر گھروں میں بطور مزدور کام کرتا ہے جبکہ 2 فنکار مزدوری کی غرض سے مسلم ٹاﺅن موڑ پر مزدور اڈے پر آتے ہیں جب کہ  چند روز قبل مسلسل بے روزگاری سے تنگ آ کر گرین ٹاﺅن کے سٹیج آرٹسٹ اعظم راہی نے خود کو آگ لگا کر خود کشی کر لی تھی۔ 27 سال تک اسٹیج پر کام کر نے والی سعدیہ شیخ گڑھی شاہو بازار میں نان ٹکی کی ریڑھی لگا کر زندگی کی گزر بسر کر رہی ہیں۔

فنکاروں کو مالی سپورٹ فراہم کرنے کے لئے پنجاب حکومت کی طرف سے آرٹسٹ سپورٹ فنڈز قائم ہے جس میںشیبا بٹ،ترنم ناز،سجاد طافو، سعید شوکی ،ناصر بٹ،رضی ملک،توقیر حسین،ثمینہ بٹ،صفدر حسین سمیت 2 ہزار کے قریب گلوکار، پروڈیوسرز، میوزیشنز، ٹیکنیشنز اور اداکار شامل ہیں،اب فنکاروں نے اس فنڈز میں سے فوری ادائیگیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری اعجاز کامرا ن کے مطابق پاکستان بننے کے بعد سے پہلی بار ایسا ہوا ہوگا جب مسلسل دوسری بار عیدالفطر پر سینما ہالز میں فلمیں ریلیز نہیں ہوں گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو روز قبل ہی شہنشاہ غزل مہدی حسن کے شاگرد آصف مہدی بھی غربت اور کورونا کے خلاف جنگ لڑتے لڑے زندگی کی بازی ہار گئے، سنگر ایسوسی ایشن کے چیئرمین و معروف گلوکار انور رفیع نے2 روز قبل حکومت سے درخواست کی تھی کہ آصف جاوید کا نہ صرف فری علاج کیا جائے بلکہ ان کی مالی مدد بھی کی جائے۔

پنجاب آرٹسٹ تھیٹر ایسوسی ایشن کے صدر افضل بٹ کا کہنا ہے کہ تھیٹرز مسلسل بند ہونے کی وجہ سے فنکاروں کے معاشی حالات بہت برے ہو چکے ہیں، اگر کاروبار سمیت دوسرے شعبے کھولے جا سکتے ہیں تو سٹیج ڈرامے کیوں نہیں چلائے جا سکتے ہیں۔ ایکسپریس سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ ہمارا کاروبار صرف دو گھنٹے تک کا ہوتا ہے، حکومت سے درخواست کی ہے کہ ہمیں رات نو سے گیارہ بجے تک تھیٹرز کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ فنکار مزید معاشی بدحالی سے بچ سکیں۔

پاکستان فلم ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری اعجاز کامرا ن کا کہنا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے پہلی بار ایسا ہوا ہوگا جب مسلسل دوسری بار عیدالفطر پر سینما ہالز میں فلمیں ریلیز نہیں ہوں گی،ایکسپریس سے خصوصی بات چیت میں انہو ں نے کہا کہ اس وقت 2 درجن سے زائد فلمیں سینما گھروں کی زینت بننے کے لئے تیار ہیں لیکن مسلسل لاک ڈاﺅن کی وجہ سے یہ فلمیں نمائش کے لئے پیش نہیں کی جا رہیں،انہوں نے کہا کہ موجود ہ صورت حال کی وجہ سے نہ صرف فلم انڈسٹری معاشی بدحالی کا شکار ہے بلکہ اس سے وابستہ فنکار، گلوکار، میوزیشنز اور دوسرے افراد معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں