24

کورونا کے باعث سرکاری اسپتالوں میں سرجریز معطل، تکلیف سے مریض تڑپنے لگے

آپریشن اور دوائوں کے نام پر مریضوں سے رقم وصول کر لی، داخل مریضوں کو عید الفطرکی چھٹیوں پر گھر بھیج کر وارڈز خالی کرا لیے گئے۔ فوٹو:فائل

آپریشن اور دوائوں کے نام پر مریضوں سے رقم وصول کر لی، داخل مریضوں کو عید الفطرکی چھٹیوں پر گھر بھیج کر وارڈز خالی کرا لیے گئے۔ فوٹو:فائل

 کراچی: عالمی وبا کورونا کے پیش نظر ملک بھر کے اسپتالوں میں الیکٹیو سرجریز معطل کردی گئی ہیں جب کہ آپریشن کی سہولت بند ہونے سے کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں آپریشن کے لیے داخل مریض شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

کورونا وائرس کی وبائی صورتحال میں کراچی سمیت ملک بھر میں این سی او سی کے احکامات پر سرکاری ونجی تمام اسپتالوں میں الیکٹو سرجریز روک دی گئی ہیں آپریشن و سرجری کے لیے روزانہ کی بنیاد پر مریض سرکاری اسپتالوں میں لائے جاتے ہیں جو الیکٹو آپریشن روک دینے کے باعث شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

سرکاری اسپتالوں میں مریض مفت علاج کروانے کی غرض سے اسپتال آتے ہیں لیکن اسپتالوں میں آپریشن اور دواؤں کے نام پر مریضوں سے پیسے وصول کیے جارہے ہیں۔

اسپتالوں کے آرتھوپیڈک وارڈز میں آپریشن و سرجری کے لیے داخل مریض آپریشن نہ ہونے کے باعث تکلیف برداشت کرنے پر مجبور ہیں، مفت علاج کرانے کی غرض سے جناح اسپتال آنے والے مریض پیسے دے کر علاج کرانے پر مجبور ہیں۔

حکومت کی جانب سے فراہم کیا جانے والا جناح اسپتال کراچی کا سالانہ بجٹ 4 ارب 71 کروڑ 82 لاکھ 81 ہزار 667 روپے ہے جہاں مریضوں نے الزام عائد کیا ہے کہ سے سرجری و آپریشن کے نام پر کسی مریض سے 9 ہزار روپے تو کسی سے 10 ہزار روپے کی رقم وصول کی گئی ہے۔

سول اسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک یونٹ کے وارڈ میں داخل مریضوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے جبکہ تمام بستر خالی پڑے ہیں جبکہ آرتھوپیدک یونٹ کے باہر موجود مریضوں کو داخل بھی نہیں کیا جارہا ہے۔

عباسی شہید اسپتال کی صورتحال بھی کچھ مخلتف نہیں ہے، عباسی شہید اسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک وارڈ میں داخل مریضوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے، تمام وارڈ خالی پڑے ہیں جبکہ اسپتال میں شعبہ ایمرجنسی کے علاوہ کہیں کوئی عملہ موجود نہیں ہے، وارڈز میں مریضوں کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، عباسی شہید اسپتال اور سول اسپتال میں مریضوں سے دوائیں منگوائی جارہی ہیں۔

پیر اور ہاتھ کی ہڈی ٹوٹنے پر سول اسپتال آئی تھی لیکن علاج نہیں ہو سکا، فہمیدہ

سول اسپتال شعبہ آرتھوپیڈک یونٹ کے فیمیل وارڈ میں بیڈ نمبر 29 پر زیر علاج 40 سالہ فہمیدہ نے ایکسپریس کو بتایا کہ ایک ہفتے قبل گھر میں کام کے دوران گرگئی تھی جس کی وجہ سے پیر اور ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی، سول اسپتال آپریشن کے لیے لایا گیا لیکن یہاں ڈاکٹرز نے عید کے بعد آپریشن کے لیے آنے کا کہا ہے، شدید تکلیف میں ہوں، یہاں صرف درد کے لیے انجیکشن اور دوائیں دے رہے ہیں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور شوہر ہے گھر کی میں واحد کفیل ہوں، گھر گھر جاکر کام کر کے گھر کا چولہا جلاتی ہوں، آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے عید اسپتال میں ہی گزاروں گی، اگر آپریشن پہلے ہی کردیا جاتا تو میں عید اپنے بچوں کے ساتھ گھر پر گزارتی، میری اپیل ہے کہ آپریشن جلد کیا جائے تاکہ گھر واپس جاسکوں۔

بچوں کی ایکسیڈنٹ میں ہڈیاں ٹوٹیں اسپتال میں علاج نہیں کیا جا رہا، گل ناز

سول اسپتال میں آرتھوپیڈک وارڈ کے باہر بھی کئی مریض علاج کے لیے منتظر ہیں، وارڈ کے باہر موجود ایک خاتون گل ناز جو اپنے دونوں بچوں کے ہمراہ موجود تھیں، گل ناز کا کہنا تھا کہ میرے دو بچوں کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا، 8 سالہ صاحب علی کے پائوں کی ہڈی ٹوٹی ہے جبکہ دوسرا بچہ 7 سالہ عابد علی کی کہنی اترگئی ہے، سول اسپتال کے ڈاکٹروں نے پٹیاں باندھ دی ہیں، پٹیاں بھی اپنے پیسوں سے خریدی ہیں، ہم سے کہا جارہا ہے کہ یہاں علاج نہیں ہوگا کسی دوسرے اسپتال لے جائیں، اسپتال میں داخل نہیں کیا جارہا ہے۔

جناح میں گولے کے آپریشن کیلیے 10 ہزار لیے گئے، ناصر

جناح اسپتال کے آرتھوپیڈک وارڈ نمبر 14، بیڈ نمبر 222 پر گزشتہ 22 روز سے زیر علاج 46 سالہ مریض ناصر حسین جسے پیر کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا، ناصر نے ایکسپریس کو بتایا کہ چھت سے نیچے گرنے سے زخمی ہوا تھا، ڈاکٹرز نے بتایا تھا کہ گولہ اتر گیا ہے آپریشن ہوگا، فرنیچر کی دکان پر دہاڑی پر کام کرتا ہوں گھر کا واحد کفیل ہوں، عید سر پر ہے پیسے بالکل نہیں ہیں اسپتال کی جانب سے آپریشن کے نام پر 10 ہزار روپے وصول کیے گئے اور کہا گیا ہے کہ جو پیسے بچیں گے وہ واپس کردیے جائیں گے ایک سرجری مکمل ہوچکی ہے۔

سرجیکل وارڈ میں داخل ایک دوسرے مریض کی والدہ کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے کی روڈ حادثے میں ٹانگ ٹوٹ گئی تھی، دو ہفتوں سے وارڈ میں داخل ہے اور شدید تکلیف میں ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے، آپریشن کے نام پر 9 ہزار روپے لیے گئے ہیں، انتظار کرنے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے، میرا بیٹا واحد کمانے والا ہے جو سرجری نہ ہونے کی وجہ سے اسپتال میں داخل ہے اگر صورتحال یہی رہی تو گھر میں فاقوں کی نوبت آجائے گی، انتطامیہ سے درخواست ہے کہ جلد سرجری کی جائے۔

سرکاری اسپتال مریضوں سے رقم لینے کے مجاز نہیں، وزیر صحت

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو واضح طور پر کہہ چکی ہیں کہ کوئی بھی سرکاری اسپتال مریضوں سے کسی قسم کے ٹیسٹ، سرجری یا آپریشن کی مد میں پیسے وصول کرنے کا مجاز نہیں، سرکاری اسپتال مریضوں کو مفت علاج فراہم کرنے کی سہولیات کی غرض سے بنائے گئے ہیں ، اس حوالے سے جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے احکام پر کورونا کی وبائی صورتحال کے پیش نظر جناح اسپتال سمیت تمام اسپتالوں میں الیکٹو سرجریز روک دی گئی ہیں۔

اسپتال میں صرف ایمرجنسی سرجریز کی جارہی ہیں، ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ عباسی شہید اسپتال ڈاکٹر انور سہیل قریشی کا کہنا تھا کہ ہر شعبہ میں ایک انچارج کی ڈیوٹی لگادی گئی ہے اور این سی او سی کے احکام پر اسپتال میں صرف ایمرجنسی سرجریز کی جارہی ہیں، ترجمان سول اسپتال کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے کورونا وبا کے پھیلائو کی روک تھام کے لیے کراچی سمیت ملک بھر کے نجی و سرکاری اسپتالوں میں الیکٹو سرجریز روک دینے کے احکام ہیں جس پر عمل کیا جارہا ہے۔

ران کی ہڈی ٹوٹنے پرعباسی آیا زخم میں پس پڑ گئی، حمزہ

عباسی شہید اسپتال کے آرتھوپیڈک یونٹ2 میں بیڈ نمبر7 پر زیر علاج سرجانی ٹائون کا رہائشی 20 سالہ محمد حمزہ کا ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ایک ماہ قبل روڈ حادثے میں زخمی ہوا تھا جس میں ران کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی جس کے بعد فوری عباسی شہید اسپتال آیا یہاں ڈاکٹروں نے آپریشن کا کہہ کر داخل کرلیا تھا ایک ہفتے قبل آپریشن کے لیے لے کر گئے لیکن یہ کہہ کر آپریشن نہیں کیا کہ پیر میں پس پڑگئی ہے عید کے بعد آپریشن ہوگا، میں ایک مکینک ہوں اور ایک ماہ سے بے روزگار ہوں۔

اسپتال انتطامیہ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ واپس گھر چلے جائیں اسپتال میں کوئی ڈاکٹر یا عملہ دیکھ بھال کے لیے نہیں ہوگا، پیر میں رات کے وقت شدید تکلیف ہوتی ہے لیکن یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔

محمد حمزہ نے مزید بتایا کہ میں ٹوٹے ہوئے پیر کے ساتھ گھر نہیں جاسکتا میرا گھر تیسری منزل پر ہے، عید بھی اسپتال میں ہی گزاروں گا، میری اسپتال انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ میرا علاج جلد از جلد مکمل کرکے اسپتال سے فارغ کیا جائے، مریضوں کی روکی ہوئی سرجری فوری کی جائیں۔

محمد حمزہ کے بھائی محمد یاسر کا کہنا تھا کہ ابھی صرف درد کے انجیکشن اور دوائیں دی جارہی ہیں، صرف انجیکشن ہی 360 روپے کا آتا ہے جو روزانہ 2 لگتے ہیں اور دوائیوں کے الگ پیسے ہیں جو مریضوں کو باہر سے لانی پڑتی ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں