34

کووڈ 19 کی تیسری لہرکے دوران انتقال کرنے والے فنکار

جہاں فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے وہیں کچھ فنکار بروقت علاج سے صحت یاب بھی ہوئے فوٹوفائل

جہاں فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے وہیں کچھ فنکار بروقت علاج سے صحت یاب بھی ہوئے فوٹوفائل

لاہور: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں جاری کووڈ 19 کی تیسری لہر کے دوران شوبز سے وابستہ نامور فنکار، گلوکار اور ہدایتکار دار فانی سے کوچ کر گئے۔

جہاں متعدد فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گئے وہیں کچھ فنکار کورونا وائرس کا شکار تو ہوئے لیکن بروقت علاج سے صحت یاب ہونے میں کامیاب رہے۔ نامور گلوکار جواد احمد تو مہلک وائرس کا 2بار شکار ہو چکے ہیں۔

طلعت صدیقی

9 مئی کی صبح تو فنکاروں کے 2خاندانوں کو افسردہ کر گیا،اس دن ادکارہ عارفہ صدیقی کی والدہ اور گلوکارہ فریحہ پرویز کی خالہ اور سینئر ادکارہ طلعت صدیقی اور ممتاز فوک گلوکار عارف لوہار کی اہلیہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ طلعت صدیقی پاکستانی فلموں کے سنہرے دور کی ایک ناقابل فراموش اداکارہ تھیں جو اپنی پروقار شخصیت، دھیمے لہجے اور مخصوص آواز کے لیے الگ پہچان رکھتی تھیں۔

سنبل اقبال

6مئی کو اداکارہ بشری انصاری کی بہن سنبل شاہد بھی کورونا وبا کے باعث زندگی کی بازی ہارگئیں۔ اپنی دوسری بہنوں کی طرح سنبل شاہد بھی اداکارہ تھیں اور انہوں نے کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

آصف جاوید

21 اپریل کو پاکستان کے معروف گلوکار مہدی حسن کے شاگرد آصف جاوید کورونا وائرس کی وجہ سے فوت ہوئے۔ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد وہ ایک ہفتے سے میو ہسپتال میں تھے۔

ڈھولچی گونگا سائیں اور سعید گیلانی

19اپریل کو صدارتی ایوارڈ یافتہ ڈھولچی گونگا سائیں دل کے عارضے کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے۔ 5 اپریل کو نامور شاعر، ادیب، نغمہ نگار، موسیقار اور مصنف سعید گیلانی نے پشاور میں انتقال کیا۔ انہوں نے گانا سونا نہ چاندی نہ کوئی محل سمیت پاکستانی فلموں کے لیے پانچ ہزار سے زائد گیت لکھے۔ سعید گیلانی کے لکھے گیت بھارتی فلموں کی بھی زینت بنے۔

ایس سلیمان

14 اپریل کو پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر ہدایت کار، پروڈیوسر اور فلمساز ایس سلیمان 80 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ فلم ڈائریکٹر ایس سلیمان ماضی کے اداکارسنتوش کمار اور درپن کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی پہلی فلم ”گلفام“ 1961 میں ریلیز ہوئی۔ انہوں نے 60 سے زائد فلموں کی ہدایت کاری کی۔

استاد مبارک علی

8اپریل کو صدارتی ایوارڈ یافتہ کلاسیکل گلوکار استاد مبارک علی خان 86 برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ استاد مبارک علی 1937ءمیں جالندھر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق موسیقی میں لاہور کے کسی معروف گھرانے سے نہیں تھا لیکن یہ اپنے خاندان میں جاری موسیقی کی روایت کو ایک گھرانے کی سطح پر لے آئے تھے۔ یہ سامعین پر راگ کے راستے اس قدر واضح کر دیتے ہیں کہ پوری محفل بے ساختہ داد دینے پر مجبور ہوجاتے۔ انہیں 2007ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

شوکت علی

پاکستان کے مشہور فوک گلوکار شوکت علی2اپریل کو فوت ہوئے، وہ طویل عرصے سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے۔ مرحوم شوکت علی نے صوفیانہ کلام اور پنجابی گانوں کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ 1965کی جنگ میں ان کا گایا ہوا ملی نغمہ، ”جاگ اٹھا ہے سارا وطن“ اب بھی جوانوں کا لہو گرماتا ہے. مرحوم نے پنجابی فلموں میں بھی گانے گائے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں 1990 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

کنول نصیر

اس سے قبل 25 مارچ کو پی ٹی وی کی پہلی خاتون اناؤنسر اور ڈراما آرٹسٹ کنول نصیر کا انتقال ہوا۔ دل کی تکلیف کے باعث انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کر گئیں۔ کنول نصیر کو ان کی خدمات کے پیش نظر مختلف اہم ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔ کنول نصیر گزشتہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ تک پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے ساتھ وابستہ رہیں۔

حسینہ معین

26مارچ کو معروف ڈراما نگار حسینہ معین کا 79 برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اہلخانہ کے مطابق حسینہ معین طویل عرصے سے کینسرکے مرض میں مبتلا تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں