46

کوچۂ سخن – ایکسپریس اردو

جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔ فوٹو : فائل

جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے۔ فوٹو : فائل

غزل
جدھر سے بچنا ہے آخر ادھر نہ لگ جائیں
کسی دیوار سے ہم شب بسر نہ لگ جائیں
کسی کے ہاتھ سے چُھوٹے ہیں اور سوچتے ہیں
ہماری کرچیاں اس ہاتھ پر نہ لگ جائیں
میں کوڑھ کاٹ رہا ہوں سو مجھ سے دور رہو
تمہارے ہاتھ میرے زخم پر نہ لگ جائیں
نظر ہٹا کہ ہمیں خود سے خوف آتا ہے
ترے گلے سے کہیں بھاگ کر نہ لگ جائیں
(نذر حسین ناز۔چکوال)

۔۔۔
غزل
اگرچہ فرض نہ تھا جاگنا مگر جاگے
ہمارے ساتھ کئی چہرے رات بھر جاگے
بس ایک لو تھی جو فانوس میں رکی ہوئی تھی
پھر اُس کے بعد یہ رستے جَگر جَگر جاگے
خزاں کے پیڑ سے اترے پرند زردی کا
ترے لباس کی خوش بو نگر نگر جاگے
کسی کے نام کی پھر شام کھلکھلائے یہاں
کسی کے پاؤں کی آہٹ سے پھر سحر جاگے
یہ کشتِ حرف ہے سینچی ہے میں نے اشکوں سے
قلم کے پیڑ پہ تب جا کے یہ ثمر جاگے
ہمارے دکھ کا بھی نامہ نگار ہو کوئی
ہماری بھی کسی اخبار میں خبر جاگے
(ریاض ساغر۔ ہری پور ہزارہ)

۔۔۔
غزل
کیسے بتائیں کہ کیا حقیقت ہے کیا غلط ہے
تمام باتیں تمام لکھا پڑھا غلط ہے
یہ سوچ کر ہی سبھی ہیں بھیڑوں کے ریوڑوں میں
جہاں سے کوئی نہ گزرے وہ راستہ غلط ہے
میں بے ارادہ ہی دیکھ لیتی ہوں تجھ کو اکثر
اگر نہ ہو اختیار کیا دیکھنا غلط ہے
وفا یہی تھی کہ تیرے ہر اک کہے کو مانیں
وگرنہ معلوم تھا ترا مشورہ غلط ہے
ہم ایک دوجے کو اپنا کہتے رہے ہیں لیکن
ترا کہا ٹھیک ہے، جو میں نے کہا غلط ہے
مجھے خبر ہے وہ میرا محرم نہیں ہے جاناںؔ
میں سوچتی ہوں اسے جسے سوچنا غلط ہے
(جاناں ملک۔ راولپنڈی)

۔۔۔
غزل
نقش ہوں گہری محبت کا بنایا ہوا ہوں
سر بہ سر حیرت و حسرت کا بنایا ہوا ہوں
مجھ میں کچھ اور تجلی ہے الگ سب سے الگ
میں کسی اور ہی صورت کا بنایا ہوا ہوں
اے مرے وعدہ شکن ہٹ مرے سائے سے بھی تو
دشت میں پھیلتی وحشت کا بنایا ہوا ہوں
وہ اگر جھیل بدن موج ہے طغیانی کی
میں بھی صحرا کی طبیعت کا بنایا ہوا ہوں
میں کسی طور بھی تجسیم نہیں ہو سکتا
موسمِ ہجر ہوں ہجرت کا بنایا ہوا ہوں
(عمران میر۔ کوٹ اڈو)

۔۔۔
غزل
زہرِ غم تاحیات پی لینا
شادماں، مستیوں میں جی لینا
پیار کے پُر خلوص دھاگے سے
خود غرض دل کے ہونٹ سی لینا
زندگانی سے بیخودی پاکر
ساغرِ مئے سے زندگی لینا
معجزہ ہے، تمہاری دنیا میں
ایک لمحے کی زیست جی لینا
جامِ آبِ حیات بعد از مرگ
ہوش میں آ گئے تو پی لینا
خواہشوں کے شراب خانے میں
مجھ سے مینائے عاشقی لینا
جیسے تُو جانتا نہیں تاثیرؔ
حسنِ دائم سے روشنی لینا
(تاثیر خان۔ سوات)

۔۔۔
غزل
تو اگر ضبط کی قوت کو اذیت بخشے
آگ اتنی ہو کہ دریا کو بھی وحشت بخشے
تیری آغوش میں رکھ دوں گا میں یہ نیل بدن
گر مجھے موت تڑپنے کی سہولت بخشے
درد کی آخری منزل پہ کھڑا ہوں کہ جہاں
غم کی آواز سماعت کو مسرت بخشے
تیرا ہر نقش ہے اعجاز ِ خدائے یکتا
تیری تصویر مصور کو رعونت بخشے
جو حقیقت میں بہت دور ہوا ہے مجھ سے
عین ممکن ہے کہیں خواب میں الفت بخشے
(صائم شیرازی۔ سرگودھا)

۔۔۔
غزل
شام سورج کو گرانے کے لیے ہوتی ہے
نیند آنکھوں کو بجھانے کے لیے ہوتی ہے
یعنی اب راز چھپایا نہیں جا سکتا یہاں
یعنی ہر بات بتانے کے لیے ہوتی ہے
تجھ کو معلوم نہیں شور مچانے والے
نیکی دریا میں بہانے کے لیے ہوتی ہے
میں نے پھولوں سے بھری ہے تری خاطر ورنہ
آستیں سانپ چھپانے کے لیے ہوتی ہے
میں پرندوں کی طرح جب بھی پروں کو کھولوں
ہر کماں مجھ پہ نشانے کے لیے ہوتی ہے
ہر کوئی آتا نہیں دشت میں کٹنے کے لیے
کربلا ایک گھرانے کے لیے ہوتی ہے
(ساجد حیات ۔اسلام آباد)

۔۔۔
غزل
نہ رکھنا خاص تم ہم کو، بھلے ہی عام رکھ لینا
مگر محفل میں تم اپنی ہمارا نام رکھ لینا
تمہارے نام سے پہلے ہمارا نام آئے تو
ہمارے نام کو بیشک برائے نام رکھ لینا
گوارہ گر نہ ہو تم کو ہمیں احباب میں رکھنا
تمہیں یہ بھی اجازت ہے ہمیں گمنام رکھ لینا
ہمیں کب چاہیے تم سے کوئی قیمت بلاوے کی
ہمیں بے مول رکھ لینا ہمیں بے دام رکھ لینا
ہمیں تم چھوڑ کر پیچھے بہت آگے نکل جانا
مگر اتنی گزارش ہے قدم دو گام رکھ لینا
( کاظم علی۔ بورے والا)

۔۔۔
غزل
کوئی بھی ذائقہ چکھوں تو دل کھٹک جائے
مِری زبان سے کیسے ترا نمک جائے
وہ ایک بات جو تو نے کبھی کہی ہی نہیں
اس ایک بات کو سن سن کے کان پک جائے
اے بے نیاز کہ کچھ دیر تیرے دیکھنے سے
سیاہ بخت بھی مجھ سا اگر چمک جائے
مرا خیال رہے مستقل تری جانب
ہرے سے کھیت کو جیسے کوئی سڑک جائے
کچھ ایسے اشک جو گرتے ہیں آنکھ کے اندر
کچھ ایسی آگ جو پانی میں بھی بھڑک جائے
تُو کم سے کم کبھی اتنی تو بات کر مجھ سے
کہ بند غار سے پتھر ذرا سرک جائے
( ندیم راجہ۔ راجن پور)

۔۔۔
غزل
سبھی گناہوں بھری لذتیں مبارک ہوں
تمھاری جاگتی راتیں تمھیں مبارک ہوں
پرانے خواب کی تکمیل میں نیا بستر
گھسی پٹی سی وہی خواہشیں مبارک ہوں
ہمارا ساتھ گیا خیر کوئی بات نہیں
کسی کے ساتھ ملی راحتیں مبارک ہوں
میں کیوں کہ تلخ دہن تھا سو تم سے دور ہوا
منافقوں کی تمھیں قربتیں مبارک ہوں
ازل سے جن کو ہو آوارگی کی لت صاحبؔ
انہیں بھٹکنے کی سب عادتیں مبارک ہوں
(فیصل صاحب۔ بہاولپور)

۔۔۔
غزل
در پہ ہم پیار کی سوغات اٹھا لائے ہیں
تجھ کو بھائیں گے وہ نغمات اٹھا لائے ہیں
چاند سا پیارا وطن چھوڑ کے جانا ہے ہمیں
ہم کو اس موڑ پہ حالات اٹھا لائے ہیں
تجھ کو چاہت کا یقیں کیوں نہیں آتا ہمدم
ہم تو مجنوں کی ہی عادات اٹھا لائے ہیں
ایک مٹی سے بنایا ہے خدا نے سب کو
یہ تو ہم لوگ ہیں، طبقات اٹھا لائے ہیں
ہم تو حاضر ہیں ترے کام بہت آئیں گے
پاس جتنی ہیں وہ خدمات اٹھا لائیں ہیں
(احمد مسعود قریشی۔ ملتان)

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور یہ صفحہ آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات سے سجایا جارہا ہے۔ آپ اپنی نظم ، غزل مع تصویر ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں، معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس (سنڈے ایکسپریس) ، 5 ایکسپریس وے ، کورنگی روڈ ، کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں