66

کوچۂ سخن – ایکسپریس اردو

جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے ۔فوٹو : فائل

جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے ۔فوٹو : فائل

غزل
سوکھے ہرے ہیں اور ہرے خود کفیل ہیں
فطرت کے رازداں تو سرِ دشت جھیل ہیں
مجرم ضمیر کا کرے خود کو معاف کیا
جب دل کے آر پار ندامت کے کیل ہیں
احساس سے مشینوں کا کچھ واسطہ نہیں
جذبات ہی حیات کا اصل الاصیل ہیں
اس تھرتھراتی لو سے ڈراتے ہو کیا ہمیں
صد شکر ہے نمودِ سحر کی دلیل ہیں
منزل اگر سمجھتے ہیں کچھ قافلے تو کیا
جاذبؔ ہمیں خبر ہے کہ ہم سنگِ میل ہیں
(اکرم جاذب۔منڈی بہاؤالدین)

۔۔۔
غزل
گھٹن اتار کفِ التجا دراز میں رکھ
دعا سے دور کہیں مدعا دراز میں رکھ
گداز وقفۂ آخر تماشا چاہے اجل
شکستِ دار نہ ہو مخمصہ دراز میں رکھ
سراب ہے کہ کہیں ریت کھوجتی ہے مجھے
گماں پہ دوڑ ابھی وسوسہ دراز میں رکھ
وہ جسم آخری حسرت کا بالیقیں مظہر
کہانی جلدی سُنا ابتدا دراز میں رکھ
نشہ ضمیر بدلتا ہے کچھ نہیں کہتا
نشے میں گھوم وجہِ اختراع دراز میں رکھ
ابھی اندھیرا نہ پھیلے لطیف منظر پر
ضیا کو بانٹ ذرا سی خلا دراز میں رکھ
(خیال مہدی۔میانوالی)

۔۔۔
غزل
خود پر گمان بھی مجھے تصویر کا ہوا
اتنا اثر فضائے اساطیر کا ہوا
دل ہے کسی قدیم کلیسا میں خستہ قبر
پہلو میں جس کے پیڑ بھی انجیر کا ہوا
اٹھ اٹھ کے راہ دیکھتی ہے گرد ریگ کی
مدت کے بعد آنا جو رہگیر کا ہوا
میں پیاس بن کے دشت کے پہلو میں جا بسا
وہ میٹھا چشمہ وادیٔ کشمیر کا ہوا
قزاق بڑھ رہے تھے خموشی سے میری سمت
ناگاہ شور پانی میں زنجیر کا ہوا
گمنام مرنے والا تھا اس شہر میں کوئی
پھر دوستوں سے مشورہ تشہیر کا ہوا
تقدیر سر نیہوڑے کھڑی تھی ہجوم میں
قاسم جو فیصلہ مری تدبیر کا ہوا
(قاسم حیات ۔منڈی بہاء ُالدین)

۔۔۔
غزل
یہ فسانہ نیم شب کا ہے، مگر پُر نور ہے
دوستو! میرے قلم کا مختلف دستور ہے
آسماں پر ہے مہِ کامل ،مرے دل کی طرح
جستجو کی آبجو میں ہر کرن مسرور ہے
بت کے اندر ہے خزانہ، زینہار اے بت شکن
کیا تِرے دل میں بھی کوئی غزنوی مستور ہے؟
کیا کرے وہ، جس کے سر میں عقل ہے سقراط کی
اور سینے میں دلِ دیوانۂ منصور ہے
اب اترنے لگ گیا ہم سے جوانی کا سرور
کوفت سی ہے، دردِ سر ہے، تن بدن مخمور ہے
چیخ آہو کی، تمہارے واسطے ہوگی غزل
یہ دلِ تاثیر کی خاطر صدائے صور ہے
(تاثیر خان۔ سوات)

۔۔۔
غزل
خواہش و خو میں نہاں ہیں ہم لوگ
کتنے بے نام ونشاں ہیں ہم لوگ
سنگ ہاتھوں میں لے پھرتے ہیں
صورتِ شیشہ گراں ہیں ہم لوگ
مالکِ حرف و صدا کا ہے کرم
بے زبانوں کی زباں ہیں ہم لوگ
جس میں کردار امر ہے اپنا
اس کہانی میں کہاں ہیں ہم لوگ
طعن و تشنیع مقدر اپنا
کسی کافر کی اذاں ہیں ہم لوگ
مختلف ہوتے ہوئے بھی سارے
ایک دوجے کا گماں ہیں ہم لوگ
(عنبرین خان۔لاہور)

۔۔۔
غزل
شاہزادی کو جب ہنسی آئی
پورے گاؤں میں روشنی آئی
ہجر کے کالے چِلّے کاٹے ہیں
تب مجھے جا کے شاعری آئی
مرنے والوں کو زندگی بخشی
میرے حصّے میں خود کشی آئی
رشتہ مانگا ترا،ہمارے بیچ
پھر قبائل کی دشمنی آئی
جو بھی تیرے قریب آئے ہیں
ان کے چہروں پہ دلکشی آئی
دل پہ یادوں نے پھر چڑھائی کی
اس لیے آنکھ میں نمی آئی
میرے چہرے کا رنگ اڑ نے لگا
تیرے جانے کی جب گھڑی آئی
(نزیرحجازی۔نوشکی بلوچستان)

۔۔۔
غزل
گفتگو خوف ہے ہر ادا خوف ہے
سب کے آنگن میں نازل ہوا خوف ہے
ڈر کے مارے نہ کھولے کوئی لب یہاں
سب کے چہروں پہ یاں اب سجا خوف ہے
رقصِ وحشت ہے ہر کوچہ و شہر میں
سب کے لب پر صدا یہ وبا خوف ہے
جن کو جینے کے سب ڈھنگ میں نے دیے
مجھ پہ ان دوستوں کی عطا خوف ہے
کوئی ملتا نہیں،پاس آتا نہیں
سب کے ذہنوں پہ طاری ہوا خوف ہے
جانے کس موڑ پر، چھوڑ جائے گاوہ
دل میں میرے عجب اک بسا خوف ہے
سہمے سہمے ہیں سب، گنگ بیٹھے ہیں سب
بات کس سے کریں جا بجا خوف ہے
(فرخ رضا ترمذی۔ کبیروالا)

۔۔۔
غزل
وہ جو رکھتاہے مرے دوست عقیدت مجھ سے
کرنے لگتے ہیں سبھی لوگ محبت مجھ سے
میں ترے نام کی تسبیح پڑھا کرتا ہوں
جب کبھی آنکھ ملائے میری وحشت مجھ سے
شعر کہتے ہوئے آفاق سے ہو آتا ہوں
اے خدا چھین نہ لینا کبھی نعمت مجھ سے
جانے والوں سے کہو اپنے ارادے بدلیں
اب کوئی شخص بھی ہوتانہیں رخصت مجھ سے
ایک کم زور سا انساں ہوں معافی دے دے
زندگی اور نہ لینا کوئی قیمت مجھ سے
میں نے جس روز تری پھول سے جوڑی نسبت
پھول کرتا ہے اسی روز سے نفرت مجھ سے
(ارشد احمد۔مظفر آباد آزاد، کشمیر)

۔۔۔
غزل
باغ کی سیر سے دشت کی سمت جانے کا رستہ نہیں مل رہا
تیری جانب سے ہٹتے ہوئے خود میں آنے کا رستہ نہیں مل رہا
ان کے چہروں پہ پڑتی خراشوں سے نقشے کی صورت نمایاں ہوئی
وہ جنہیں اک زمانہ ہوا ہے، زمانے کا رستہ نہیں مل رہا
راہِ دل ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کی آنکھوں میں ہم اس طرح کھو گئے
سمجھیے اک سمندر میں ہیں اور خزانے کا رستہ نہیں مل رہا
اک تھکا خواب جو خواب گاہوں کو چھونے کی دھن میں بھٹکتا پھرے
اک بھٹکتا پرندہ جسے آشیانے کا رستہ نہیں مل رہا
کتنی ہی خواہشیں ہیں کہ ہم نے جنہیں دل میں چپ چاپ دفنا دیا
اور کچھ حسرتیں ہیں جنہیں سردخانے کا رستہ نہیں مل رہا
(توقیر احمد۔ منڈی بہائُ الدّین)

۔۔۔
غزل
ہم محبت کے جو مرید ہوئے
احتمالاً تبھی سوید ہوئے
کیا کہوں زندگی کی بھٹی سے
کس طرح دن مرے کشید ہوئے
حلقہ احباب ہو گیا ہے وسیع
یعنی دشمن مرے مزید ہوئے
ان کی آنکھوں میں تشنگی دیکھی
جن کے چہرے کہ آب دید ہوئے
یوں نچاتا ہے عشق انگلی پر
جیسے ہم کوئی سر کلید ہوئے
دل میں زندہ ہیں آج بھی شوکت
وہ جو ارمان سر برید ہوئے
(شوکت جلالپوری۔جلالپور جٹاں)

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور یہ صفحہ آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات سے سجایا جارہا ہے۔ آپ اپنی نظم ، غزل مع تصویر ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں، معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس (سنڈے ایکسپریس) ، 5 ایکسپریس وے ، کورنگی روڈ ، کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں