28

کچھ ڈراما ہوجائے؟ – ایکسپریس اردو

ڈرامے کی مختصرترین تعریف کے مطابق یہ ایسا قصہ ہے جو اسٹیج پر اداکاری کے لیے لکھا جائے۔ فوٹو : فائل

ڈرامے کی مختصرترین تعریف کے مطابق یہ ایسا قصہ ہے جو اسٹیج پر اداکاری کے لیے لکھا جائے۔ فوٹو : فائل

زباں فہمی نمبر 95

’’کیا ڈراما ہے بھئی؟ ‘‘

’’کیا ڈراما ہے بھئی؟؟ ‘‘(استعجابیہ)

’’وہ آدمی نہیں، پورا ڈراما ہے‘‘۔

’’کیا ڈرامے بازی ہے؟‘‘۔

’’کیا ڈرامے بازی لگا رکھی ہے؟‘‘۔

’’ڈراما نہیں کرو، سیدھی طرح بتاؤ ، بات کیا ہے؟‘‘۔

’’ڈراما نہیں، سچ سچ بتاؤ، ورنہ ادھر ہی سِین کردوں گا‘‘۔

’’ابھی تو ڈرامے کی پہلی قسط ہے ….آگے آگے دیکھتے جاؤ ، کیا ہوتا ہے/کیا کرتا ہے‘‘۔

’’زندگی کیا ہے ، ڈراما ہے ‘‘۔

’’ارے بھائی اُس کا ڈراما 89 ختم نہیں ہوا کیا؟؟‘‘ (استعجابیہ)

’’کیا ٹوپی ڈراما ہے؟‘‘

یہ اور اسی طرح کے بے شمار جملے ہماری روزمرّہ زندگی میں اکثر سماعت سے ٹکراتے ہیں اور ہم خود بھی ایسے جملے بو ل کر کسی موقع پر اپنے جذبات یا تأثرات کا فوری اظہار کرتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے ؟ میری دانست میں ایسا اس لیے ہے کہ لفظ ڈراما (ڈرامہ غلط ہے) کہتے ہی ایک بھرپور اور فوری تأثر ذہن پر مُرتَسم ہوتا ہے یا نقش ہوتا ہے۔

ڈرامے کی مختصرترین تعریف کے مطابق یہ ایسا قصہ ہے جو اسٹیج پر اداکاری کے لیے لکھا جائے نیز کوئی حادثہ، پریشان کُن واقعہ، ڈھونگ، غیرحقیقی بات، کھیل (مختصر اردو لغت، اردو لغت بورڈ)۔ لفظ ڈراما کے اردو مترادفات میں تماشا، ناٹک ، سوانگ، رہس اور کھیل شامل ہیں۔ یہ الفاظ آج بھی زندہ ومستعمل ہیں، مگر ہماری نئی نسل کی توجہ اِن کی طرف کم کم ہوتی ہے۔

اولین اردو سلینگ لغت کے مطابق، ہماری عوامی بولی ٹھولی، چالو زبان یا Slang میں ڈراما کے یہ مفاہیم ہیں: ا۔ بے وقوف بنانے کا عمل (دیکھیے : ڈرامے بازی) ۲۔ گھُنّا آدمی، چالاک آدمی، چلتا پُرزہ، ماہرِفن شخص…بقول پروفیسرسحر انصاری: ’’وہ ڈراما نویس بھی ہیں اور ڈرامے کے اداکار اور صداکار بھی، بلکہ خود بہت بڑا ڈراما ہیں‘‘، بحوالہ ’پھر نظر میں پھول مہکے‘ صفحہ نمبر۱۳۔ ڈرامے بازی: بے وقوف بنانے کا عمل، دھوکا دہی، کوئی ایسا کام جو دَرپَردہ کچھ اور (عموماً غلط) ہو، بہانے بازی، آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کی جانے والی کوئی حرکت (نیز دیکھیے: ٹوپی ڈراما)۔ اسی منفرد لغت نے یہ بات بھی فراموش نہیں کی کہ عوام النّاس میں ایک طبقہ ڈراما کو ڈِریاما کہتا ہے۔

ڈراما کے لغوی معنی تو I do میں کرتا ہوں، بیان کیے گئے، اصطلاحی معنوں میں اس سے مراد ’’ایسی کہانی یا قصہ ہے جو اداکاری کے لیے لکھا جائے یا اداکاری کے ذریعے پیش کیا جائے‘‘۔ مزید وضاحت یوں کی جاتی ہے کہ ڈراماتھئیٹر/اسٹیج ، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے لکھے جانے والے کھیل کو کہتے ہیں نیز اِس سے مراد کوئی پُرجوش، جذباتی یا غیرمتوقع صورت حال، موقع یا حالات ہوتے ہیں۔ عموماً اسٹیج ڈراما کسی باقاعدہ تھئیٹر یا سڑک کنارے بنائے گئے اسٹیج پر پیش کیا جاتا ہے، فلم کو بھی اس کی وسیع ومفصل شکل سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک قسم کا ڈراما وہ ہے جو محض ادبی ذوق کی تسکین کے لیے لکھا جاتا ہے، جسے اِن ذرائع کے لیے ڈھالنا بھی ایک جُدا گانہ فن ہوتا ہے۔

اسے ادبی ڈراما کہہ سکتے ہیں۔ ہر چند کہ ڈرامے کی ابتداء، حضرتِ انسان کی دنیا میں آمد کے کچھ عرصے بعد یقیناً ہوچکی ہوگی، حقیقی زندگی میں اپنے مطلب اور مفاد کے حصول کے لیے اداکاری کے ذریعے، مگر رسمی تعریف کا سراغ یونان کے نامور فلسفی اَرِسطو [ Aristotle]کی مشہور کتاب ’بوطیقا‘]  Poetics [میں ملتا ہے جو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے کوئی تین سو پینتیس برس قبل کی بات ہے۔ قدیم یونان اور روم میں علی الخصوص اور دیگر خطوں میں بالعموم ڈرامے کی ابتداء، لوک تہواروں کے موقع پر پیش کیے جانے والے مخصوص رقص ومکالمے پر مبنی ناٹک سے ہوئی۔ قدیم ہندوستان میں اس کا آغاز پہلی صدی عیسوی سے بتایا جاتا ہے جو سنسکِرِت زبان کا عہد تھا، مگر مجھے لگتا ہے کہ یہ بیان عجلت میں جاری ہوا اور ہمیں انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔

اس قدیم و (تقریباً) مردہ زبان کی پیش رَو، ویدوں کی بولیاں اور زبانیں، ڈرامے کے عنصر سے خالی نہیں۔ قدیم ہندو مذہبی داستانیں یقیناً اس کے ابتدائی نقوش کی حامل ہیں۔ سلسلہ دراز ہوا تو اِس چھوٹے سے برِّاعظم عرف برّصغیر میں اردو جیسی منفرد زبان نے جنم لیا۔ عموماً یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ اردو میں ڈرامے کا سنگ ِ بنیاد، امانت لکھنوی نے ’اِندَر سبھا‘ لکھ کر رکھا، مگر پروفیسر مسعود حسین رضوی کی تحقیق سے یہ بات غلط ثابت ہوچکی ہے۔

امانت سے پہلے نواب ِ اَوَدھ، نواب واجد علی شاہ اخترؔ نے رادھا کرشن (کِشن) کی کہانی پر مبنی ’’عشق‘‘ (رادھا کنھیّا کا قصہ) نامی رہس لکھا جو1843ء میں محض محل کی چاردیواری میں کھیلا گیا اور اسے عوام تک شہرت نہ ملی۔ نواب خود فنون لطیفہ کے شوقین وسرپرست تھے۔ انھوں نے بعض رہس میں خود بھی اداکاری کی تھی۔ اس کے بعد1853ء میں ’اِندَر سبھا‘ منظرعام پر آیا جو مصنف کے شاعرانہ مزاج کے سبب، ادبی زبان کی چاشنی میں ہندوستانی دیومالا کی عکاسی پر مبنی تھا اور اپنے دور میں اچھا خاصا مقبول بھی ہوا۔ اس ڈرامے سے اردو میں ڈرامانگاری کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔

اس صنف کی سرپرستی اور فروغ میں ہندوستان کے پارسیوں کا بڑا حصہ رہا، جنھوں نے آج سے تقریباً دو سو سال پہلے ظریفانہ (حتیٰ کہ مبتذل) رنگ میں کھیل پیش کرکے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ ان ڈراموں میں رقص وسرود کا عنصر عوام کی کشش کا باعث ہوتا تھا۔ بعدازآں طالب بنارسی، احسن لکھنوی اور بیتاب بریلوی جیسے اہل علم اور اہل ذوق نے اس صنف کو باقاعدہ ادبی ڈھنگ سے پیش کرنا شروع کیا۔ ابتدائی دور میں شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے آغاحشر کاشمیری کا نام گویا اردو ڈرامے کا تعارف بن گیا تھا اور ایک روایت کے مطابق ، وہ تعلّیٰ میں یہاں تک کہہ جاتے تھے کہ ’آغاحشر ڈرامے کا خدا ہے‘۔

وہ اپنے آپ کو ہندوستان کا شیکسپئیر بھی سمجھتے تھے۔ {ایک غیرمتعلقہ بات یہ ہے کہ اُن کی ایک بیوی مشہور مغنیہ مختار بیگم نے اپنی لے پالک بیٹی رانی کو پاکستانی فلموں میں متعارف کرایا جو اپنے وقت کی کامیاب ہیروئن ثابت ہوئی۔ رانی غریب ماں باپ کی بیٹی تھی، مگر اُس کا ملکوتی حسن، اخیرعمر تک (یہ آخر نہیں ہے) برقرار رہا اور اُس کی جوڑی، وحیدمراد مرحوم کے ساتھ خاص طور پر پسند کی گئی۔ اس کے متعلق ہندوستانی اداکارہ ریکھا نے کہیں کہا تھا کہ اُمراؤ جان ادا کا کردار، فلم میں، رانی نے ریکھا سے بہتر ادا کیا ہے}۔ برصغیر ہندو پاک میں ڈرامے کے مراکز میں کلکتہ، ڈھاکا، لاہور، بمبئی اور بنارس کا نام تو لیا جاتا ہے، مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کسی زمانے میں کراچی میں بھی پارسی کمپنیوں نے ناٹک پیش کیے تھے۔

کراچی اُس دور میں بھی، محدود صحافت کے ساتھ ساتھ، اس معاملے میں نمایاں ہوسکتا تھا، مگر پھر کرتا دھرتا لوگوں کی توجہ بڑے مراکز کی طرف زیادہ مائل ہوگئی۔ قدیم ڈراموں میں بعض اوقات ایک ہی مرد کئی کردار، حتیٰ کہ زنانہ کردار بھی ادا کرلیتا تھا۔

ابتداء میں ڈراموں میں اداکار ہی گلوکار ہوا کرتے تھے، چناں چہ جب ہندوستان میں بولتی فلموں کا آغاز ہوا تو یہی سلسلہ چلا، پھر بعد ازاِیں، پس پردہ گلوکاری [Playback singing]کا دور شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ فلموں میں بھی ابتدائی اداکار انھی اسٹیج ڈراموں کے پرَوَردہ ہوا کرتے تھے، پھر معاملہ مختلف ہوگیا تو اسٹیج ، ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم، سب الگ الگ ہوگئے۔ ڈرامے اور علی الخصوص اردو ڈرامے کی تاریخ، سید امتیازعلی تاج (۱۹۰۰ء تا ۱۹۷۰ء) کے شاہکار ڈرامے ’انارکلی‘ کے ذکر کے بغیر اَدھوری رہے گی۔

انھوں نے محض بائیس سال کی عمر میں ایسا عمدہ ڈراما تخلیق کیا کہ اسے لوگوں نے حقیقی قصہ اور تاریخ سمجھ لیا، اس پر ہندوستان میں ’مغل اعظم‘، ’انارکلی‘ اور پاکستان میں ’انارکلی‘ جیسی کامیاب فلمیں بنائی گئیں۔ امتیاز علی تاج کی وفات بھی پُراَسرار طور پر ہوئی، جب انھیں بحالت خواب قتل کردیا گیا اور اس کے محرکات، نیز قاتل آج تک نامعلوم ہیں۔ اُن کے والدین مولوی سید ممتاز علی اور محمدی بیگم صاحبہ اردو زبان وادب اور تعلیم کے محسنین میں شامل ہیں۔

{تاج صاحب نے قیام پاکستان کے وقت مہاجر گھرانوں کی اپنے گھر /دفتر کی عمارت، واقع لاہور میں ایک عرصے تک خدمت کی، جن میں اُن کے رشتے دار سید اظہاراحمدشاہ کا گھرانہ بھی شامل تھا۔ وہ میرے نانا تھے}۔ پاکستان میں ڈرامے کے عروج میں ریڈیوپاکستان کا کردارناقابل فراموش ہے۔ اسٹوڈیو نمبر ۹جیسے تاریخ ساز اور رجحان ساز ڈرامے آج بھی شروع کیے جائیں تو نئی نسل کو معلوم ہوگا کہ ریڈیو کس قدر طاقت ور ذریعہ ابلاغ ہے۔ ریڈیو ڈرامے کی اصطلاح میں ’ڈراما بولنا‘ بہت بھرپور ترکیب ہے۔ اس سے مراد کسی اداکار یا صداکار کا مکالموں کی فطری، متأثرکُن اور جان دار ادائی سے ایسا ڈرامائی تأثر قایم کرنا ہے کہ بالکل حقیقت کا گمان ہو۔ ہمارے یہاں اداکار محمد علی اس کی سب سے مشہور (اور غالباً سب سے بڑی ) مثال تھے۔

مرحوم بنیادی طور پر ریڈیو کے آدمی تھے جنھوں نے فلموں میں حقیقت سے پُر، ایسی اداکاری کی کہ اگر کہیں محض آواز (بغیر تصویر کے) سنائی جائے تو سننے والے کے قلب وذہن پر بعینہ ایسا ہی اثر ہوگا جیسے حقیقی زندگی میں کسی کیفیت کے طاری ہونے سے ہوتا ہے۔ اُن کے بعض فلمی مناظر میں (ہمیشہ بغیر گلیسرین کے ) روتے ہوئے مکالمے ادا کرنا، ضرب المثل ہے۔ وہ اکثر اپنے فلم بین افراد کو ایسی جاندار اداکاری سے رُلادیا کرتے تھے۔ (اُن کی ایک فلم کا گانا ع یہ دل میں رہنے والے دل سے نہیں نکلتے جتنا دفعہ بھی دیکھا، آنسوؤں پر ضبط کرنا محال ہوا)۔ دیکھا جائے تو پورے برّصغیر پاک وہند میں اُن کے بعد، شاید پرتھوی راج کپور ہی ایسے اداکار تھے جن کا ڈراما بولنا، بہت متأثر کُن تھا۔ ریڈیو میں ایس ایم سلیم، بلاشبہ صداکاری کے بادشاہ ہو گزرے ہیں۔

اُنھوں نے اپنی اَدھیڑ عمر میں، اسٹوڈیو نمبر ۹ کے ایک ڈرامے میں ایک نوجوان (ابوالحسن) کا کردار اس قدر مہارت سے نبھایا کہ سننے والوں کو سماعت پر یقین کرنا مشکل ہوگیا۔ ڈرامائی تأثر کے ساتھ گلوکاری بھی ایک فن ہے جس کی بابت کسی نصاب میں الگ سے شاید ہی پڑھایا جاتا ہو۔ اس سلسلے میں محمد رفیع، لتا منگیشکر، مُکیش، ہیمنت کُمار، احمد رُشدی، مسعود رانا اور سلیم رضا کے نام بہت نمایاں ہیں۔ پاکستان ٹیلی وژن کی آمد سے ڈرامے کی ایک نئی جہت سامنے آئی۔ ابتدائی کھیپ میں طارق عزیز، محمد قوی خان، کمال احمد رضوی اور دیگر بہت سے مشاہیر ریڈیو اور اسٹیج ہی کے تربیت یافتہ اور تجربے کار تھے۔

بعد میں شامل ہونے والوں میں بھی ریڈیو کا تجربہ بہرحال ، قابل ترجیح ہوا کرتا تھا۔ انھیں میں وہ لوگ شامل تھے جنھیں شاندار اداکاری کے طفیل فلم میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملا۔ اداکار غلام محی الدین کے ایک ڈرامے نے ایسی دھوم مچائی کہ بار بار نشر مکرر ہوا اور اسی سے ان کی فلم نگری میں داخلے کی بنیاد بنی۔ ابتدائی نامکمل فلم کے بعد، میرا نام ہے محبت جیسی انتہائی مقبول فلم سے ٹی وی کا یہ اداکار شہرت کی انتہاء کو جاپہنچا (ذاتی نوٹ: شوبز میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو اس مشہور ومقبول اداکار کی طرح ، ہر خاص وعام سے، ہمہ وقت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہوں۔

شہرت نے ان کے ذہن پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا)۔ ہمارے یہاں ڈراموں کی مقبولیت کا یہ عالم ہوا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں یہ ڈرامے کسی نہ کسی شکل میں، بشمول ترجمہ پیش کیے گئے ، پھر ہمارے یہاں تجارتی ذہنیت نے غلبہ کیا اور ہندوستانی ڈراموں کا چربہ، جعلی مصنفین کے ہاتھوں تیار کرانے کا سلسلہ چل نکلا۔ اب یہ عالَم ہے کہ کسی بھی مشہور پاکستانی ڈرامے میں تھوڑی بہت رَدّوبدل کے بعد، اُسے ہندوستانی ڈراما قرار دیا جاسکتا ہے، کیونکہ بنیادی خمیر اکثر ایک سا ہوتا ہے۔

(ایک بات تو ماقبل بھی لکھ چکا ہوں کہ ان ڈراموں میں ہندوستانی، ہندوانہ ڈراموں کے زیرِاثر یہ دکھایا جارہا ہے کہ کسی کی وفات پر، تمام مردوعورت، سفید یا سیاہ ماتمی لباس میں ملبوس یک جا ہوتے ہیں، حالانکہ شریعت اسلامیہ میں سوگ کا کوئی رنگ نہیں، نہ ہی اس کی اجازت ہے کہ اس طرح کوئی رنگ پہن کر پرچار کیا جائے)۔ ڈراموں کی زبان اور عنوانات بھی اسی طرح مرعوب ذہنیت کا شاخسانہ دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ لکھنے والوں میں اکثریت نے کبھی ڈائری نہیں لکھی، بعض نے ڈائجسٹ میں لکھنا شروع کیا تو کچھ نے نام نہاد ہدایت کاروں کے دیے ہوئے کسی ناول کی (صفحہ نمبر فُلاں تا فُلاں ) نقل کرتے ہوئے ، بلاحوالہ ڈرامے لکھنے کا ’’دھندہ ‘‘ شروع کیا۔

نوبت بہ ایں جا رسید کہ (دروغ برگردن راوی) ڈراما رائٹر بننے اور کہلانے نیز اس سے مال کمانے کے خبط میں اپنا سب کچھ لٹانے پر آمادہ شخصیات، ’مارکیٹ‘ میں بہت فعال ہوگئیں۔ خاکسار اپنے اٹھائیس سالہ تعلق بطور مصنف ومحقق کی بناء پر اس موضوع پر بہت کچھ لکھ سکتا ہے، مگر فی الحال میرا کہا ہوا یہ جملہ ہی صورت حال سمجھنے کو کافی سمجھیں کہ ’اب ڈرامے کے نام پر ڈرامے بازی بہت ہے‘۔ میں نے بوجوہ ڈرامے اور اردو ڈرامے کی وہ تاریخ دُہرانے سے اجتناب کیا ہے جو کتب اور انٹرنیٹ پر دستیا ب ہے۔ قارئین کرام دل چسپی لیں تو مواد ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں