48

کیا کورونا وائرس کے خلاف ’یونیورسل ویکسین‘ 150 روپے میں مل سکے گی؟

یہ ویکسین کورونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

یہ ویکسین کورونا وائرس کی تمام اقسام کے خلاف مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

ورجینیا: کورونا وائرس کی ہر قسم کے خلاف مؤثر، یعنی ’’یونیورسل کورونا وائرس ویکسین‘‘ کی تیاری میں امریکی ماہرین کو مزید کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

اگر اس ویکسین کی افادیت حتمی طور پر ثابت ہوگئی تو یہ 150 روپے سے بھی کم قیمت میں دستیاب ہوسکے گی جس سے خاص طور پر غریب ممالک کا بہت بھلا ہوگا۔

جانوروں پر تجربات کے دوران اس ویکسین نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں بیک وقت دو الگ الگ اقسام کے کورونا وائرسوں سے محفوظ رکھا۔

واضح رہے کہ ’’کورونا وائرس‘‘ کوئی ایک وائرس نہیں بلکہ وائرسوں کا ایک پورا خاندان ہے جس میں تقریباً ڈیڑھ درجن وائرس شامل ہیں جو خردبین تلے اپنی مخصوص ’’تاج جیسی‘‘ ساخت اور چند دیگر مشترکہ خصوصیات کے باعث الگ ہی پہچانے جاتے ہیں۔

البتہ، موجودہ ’’سارس کوو 2‘‘ سمیت، کورونا وائرسوں کی صرف سات اقسام ہی انسانوں کو متاثر کرتی ہیں جبکہ ان کی اکثریت بھی نزلہ، زکام اور سانس سے متعلق دیگر شکایات/ امراض کی وجہ بنتی ہیں۔

اس بارے میں آن لائن ریسرچ جرنل ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ (PNAS) کے تازہ شمارے میں یونیورسٹی آف ورجینیا، شارلٹس ویلی کے سینئر تحقیق کار اسٹیون زیکنر اور ان کے ساتھیوں کا تحقیقی مقالہ شائع ہوا ہے جس میں نئی، کم خرچ اور ’یونیورسل کورونا ویکسین‘ کے تجربات پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

سؤروں پر کیے گئے تجربات میں اس ویکسین نے انہیں کووِڈ 19 اور ’’پی ای ڈی وی‘‘ کورونا وائرسوں کے حملوں سے مکمل طور پر محفوظ رکھا۔

اس کامیابی کی روشنی میں ماہرین کی یہ ٹیم انسانی تجربات شروع کرنا چاہتی ہے جس کےلیے اسے امریکی ادارے ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘ (ایف ڈی اے) کی جانب سے باضابطہ اجازت درکار ہوگی۔

کورونا وائرس کے خلاف ’’ہر فن مولا ویکسین‘‘ تیار کرنے کےلیے ’’ای کولائی‘‘ نامی جرثوموں کو جینیاتی تبدیلیاں کرکے، بیماری پھیلانے والے حصوں سے پاک کیا گیا جبکہ ان کی سطح پر کورونا وائرس کی ’’اسپائک پروٹین‘‘ کے اہداف کا اضافہ بھی کیا گیا۔

بتاتے چلیں کہ کورونا وائرس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے ابھاروں جیسی اسپائک پروٹینز ہوتی ہیں جو اسے کسی خلیے کو جکڑنے اور اس کے اندر داخل ہونے میں مدد دیتی ہیں۔

ہمارا مدافعتی نظام اسی اسپائک پروٹین کو شناخت کرکے ردِعمل پیدا کرتا جو وائرس کے حملے سے بچنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ البتہ، اسپائک پروٹین کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اب تک تمام اقسام کے کورونا وائرسوں میں یہ ایک ہی جیسی ہوتی ہے، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کوئی تبدیلی بھی نہیں ہوئی۔

جینیاتی ترمیم شدہ ای کولائی بیکٹیریا کو ہلاک کرکے (مردہ حالت میں) جسم کے اندر داخل کیا جاتا ہے جہاں قدرتی مدافعتی نظام، اسپائک پروٹین کی بنیاد پر، انہیں کورونا وائرس سمجھتا ہے اور فوری طور پر بچاؤ کی کارروائی شروع کردیتا ہے۔

اس طرح وہ آنے والے وقت میں اصل کورونا وائرس کے حملے سے بھی جسم کو محفوظ کردیتا ہے۔

ویکسین کی تیاری میں جرثوموں کے استعمال کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک بار جرثومے میں مطلوبہ ویکسین کی خصوصیات پیدا ہوجائیں تو پھر اس کی بڑے پیمانے پر پیداوار بہت ہی کم خرچ پر کی جاسکتی ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جراثیم پر مشتمل ویکسین کی بھاری مقدار تیار کرنے کےلیے تمام ساز و سامان وہی درکار ہوتا ہے جو شراب سازی کے عام اور چھوٹے موٹے کارخانے میں استعمال ہوتا ہے۔ (دراصل یہ ویکسین بڑے پیمانے پر بنانے کا طریقہ بالکل وہی ہے جو شراب سازی کا ہے۔)

علاوہ ازیں، اس ویکسین کو عام ریفریجریٹر کے درجہ حرارت پر محفوظ کیا جاسکے گا اور کسی خصوصی، غیر معمولی یا مہنگے انتظام کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

یونیورسل کورونا وائرس ویکسین کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت اگرچہ امید افزاء ہے لیکن اب بھی اسے مزید کئی مراحل سے کامیاب ہو کر گزرنا ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں