75

گھریلو، معاشی اور معاشرتی ذمے داریاں خواتین کو دل کا مریض بنارہی ہیں

خواتین میں گھریلو، معاشرتی اور ملازمتی تناؤ انہیں تیزی سے دل کا مریض بنارہا ہے۔ فوٹو: فائل

خواتین میں گھریلو، معاشرتی اور ملازمتی تناؤ انہیں تیزی سے دل کا مریض بنارہا ہے۔ فوٹو: فائل

پنسلوانیا: بدلتے ہوئے ماحول کا نفسیاتی دباؤ، روزگار کا دباؤ، گھریلو ذمے داریاں اور معاشرتی امور ملکر خواتین کی صحت پر برا اثر ڈال رہے ہیں اور وہ امراضِ قلب بالخصوص کارڈیو ویسکیولر بیماریوں کی شکار ہورہی ہیں۔

یہ مطالعہ ڈریکسل یونیورسٹی میں واقع ڈورنسائف اسکول آف پبلک ہیلتھ کے سائنسدانوں نے کیا ہے۔ اس مطالعے میں ملازمت اور معاشرتی دباؤ کا بطورِ خاص مطالعہ کیا ہے۔ یعنی معاشرتی رابطے اور رشتے نبھانے کا کرب اور کام کی پریشانی مجموعی طور پر دوہری چوٹ کا کام کرتی ہیں اور اس طرح خواتین میں دیگر کے مقابلے میں دل کا مریض بننے کا خطرہ 21 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ تحقیق امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ شریکِ حیات کی موت، طلاق و علیحدگی، گھر یا سسرالیوں کے طعنے تشنے، سماجی دباؤ جیسے نفسیاتی عوامل انفرادی طور پر خواتین کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دفتر کا زہریلا ماحول، کام کا دباؤ، ناانصافی اور دیگر مسائل خواتین کو مزید مایوسی اور بیماری کی جانب دھکیلتے ہیں۔ یہ کیفیات الگ الگ 9 سے لے کر 12 فیصد تک دل کی بیماریوں کی وجہ بن سکتے ہیں۔

اس مطالعے میں 80 ہزار سے زائد خواتین کا جائزہ لیا گیا جو سن یاس (مینوپاز) سے گزرچکی تھیں۔ ان سب کا 1991 سے 2015 تک جائزہ لیا گیا ہے۔ وقفے وقفے سے ان خواتین میں معاشرتی نفسیاتی دباؤ، بالخصوص ملازمت کا تناؤ دیکھا گیا اور دیگر معاشرتی عوامل کا جائزہ بھی لیا گیا۔

پورے مطالعے کے 14 برس میں 5 فیصد خواتین دل کی مریضہ بن چکی تھیں۔ ان میں تمام عوامل کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ معاشی اور ملازمتی دباؤ کا اس بیماری میں 12 فیصد کردار ہے یعنی یہ عوامل مرض کے امکان کو 12 فیصد تک بڑھا سکتے ہیں۔ معاشرتی دباؤ کا کردار 9 فیصد دیکھا گیا۔

امریکہ میں خون کی رگوں کے امراض اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ اس میں دل کی بڑی نالیاں سکڑ جاتی ہیں یا بند ہوجاتی ہیں اور خون دل تک آکسیجن اور خون نہیں پہنچ پاتا۔ تاہم اس پہلو کی پرانی تحقیقات سے بھی تصدیق ہوتی ہیں جن میں ملازمتی دباؤ کو خواتین کے لیے بہت نقصاندہ بتایا گیا تھا۔

ماہرین نے خواتین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو وہ کام کے دباؤ اور معاشرتی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں