42

گھڑی کی ٹک ٹک نے منتظمین کو دن رات کا فرق بھلا دیا

فرنچائزز غیر ملکی کرکٹرز کی عدم دستیابی کے سبب پیدا ہونے والا خلا پْرکرتے ہوئے متوازن کمبی نیشن تشکیل دینے کیلیے فکر مند۔ فوٹو:فائل

فرنچائزز غیر ملکی کرکٹرز کی عدم دستیابی کے سبب پیدا ہونے والا خلا پْرکرتے ہوئے متوازن کمبی نیشن تشکیل دینے کیلیے فکر مند۔ فوٹو:فائل

 لاہور: گھڑی کی ٹک ٹک نے پی ایس ایل مینجمنٹ کو دن رات کا فرق بھلا دیا لہٰذا باقی میچز کے انعقاد کا تاخیر سے فیصلہ ہونے کی وجہ سے وقت کے ساتھ دوڑ جاری ہے۔

پی ایس ایل 6کے باقی میچز ابوظبی میں ہونے والے ہیں، انعقاد کیلیے یواے ای حکومت کی اجازت ملنے پر بھی بعض معاملات میں استثنٰی درکار ہونے کی وجہ سے حتمی فیصلہ کرنے میں تاخیر ہوگئی، اب کم وقت میں زیادہ امور سرانجام دینے کا چیلنج درپیش ہے۔

ٹیموں کو کئی غیر ملکی کرکٹرز کا خلا پْر کرتے ہوئے اپنا کمبی نیشن بھی متوازن رکھنا ہے، منی ڈرافٹ ہفتے کی شام کو ہوگا، ہر اسکواڈ میں 2اضافی کھلاڑی شامل کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے،منتخب پلیئرزکی پہلی کورونا ٹیسٹنگ ہفتے کو کرنے کیلیے تمام کرکٹرز اور معاون اسٹاف ارکان سے رابطہ کیا جا چکا ہے،لاجسٹک معاملات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حتمی شیڈول سامنے لایا جائے گا، دوسری جانب فرنچائز مالکان نے قابل بھروسہ یواے ای میں پی ایس ایل 6کے انعقاد کوخوش آئند قرار دینے کے ساتھ انتظامی مشکلات کا ذکر بھی کیا ہے۔

کراچی کنگز کے اونر سلمان اقبال نے ایک خلیجی اخبار کو انٹرویو میں کہاکہ ابوظبی میں میچز کا فیصلہ کرنے کے بعد بورڈ کو انتظامی امور کا سخت ترین چیلنج درپیش ہے، بھارت اور جنوبی افریقہ سے آنے والے براڈ کاسٹرز کا داخلہ ممکن بنانے سمیت کئی مشکلات لاحق تھیں، غیر ملکوں سے آنے والے کھلاڑیوں،کوچز اور ٹیکنیشنز کے لاجسٹک مسائل پیش نظر تھے،ہم تعاون پر یواے ای حکومت کے شکرگذار ہیں، تمام معاملات میں بروقت اور درست فیصلے کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

پشاور زلمی کے اونر جاوید آفریدی نے کہاکہ دیر آید درست آید،ابتدائی چاروں ایڈیشنز کی کامیابی سے میزبانی کرنے والے امارات میں ایک بار پھر میچزکا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام کورونا کی مشکل صورتحال میں بھی انٹرنیشنل اسپورٹس کرانے کی اہلیت رکھتے ہیں، پشاور زلمی یواے ای میں ماضی جیسی عمدہ کارکردگی دکھانے کیلیے بے تاب ہے۔

لاہور قلندرز کے چیف آپریٹنگ آفیسر ثمین رانا نے بھی ابوظبی میں میچز کے انعقاد کا فیصلہ خوش آئند دیا، انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ٹیم ایونٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی،ثمین نے کہاکہ ابوظبی اور لاہور کا موسم ملتا جلتا ہے، وہاں کی پچز کیلیے مٹی بھی وہی استعمال ہوتی ہے جو قذافی اسٹیڈیم کی ہے، وہاں لاہور قلندرز کا ریکارڈ اچھا ہے، اس لیے ابوظبی میں ٹیم سے بہترین کارکردگی کی توقع کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سپورٹنگ کنڈیشنز میں ہماری فاسٹ بولنگ بہترین پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،کراچی میں میچز ملتوی ہونے سے قبل ٹیم فتح کی راہ پر گامزن ہوچکی تھی،آخری میچ میں کراچی کنگز کو ان کے ہوم گراؤنڈ پر شکست دی تھی، یہ ہمارے لیے ایک یادگار فتح تھی،عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے اپنے پرستاروں کو خوشیاں دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں