39

یونس کو پاکستان کا ڈریوڈ بنائیں

یونس خان کبھی بورڈ کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے موجودہ حکام بھاری معاوضے پر انھیں لے تو آئے۔ فوٹو: فائل

یونس خان کبھی بورڈ کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے موجودہ حکام بھاری معاوضے پر انھیں لے تو آئے۔ فوٹو: فائل

میں جب بھی ٹی وی پر یونس خان کو دیکھوں تو چہرے پر ایک اداسی محسوس ہوتی ہے، وہ الگ الگ سے لگتے ہیں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل میں کوئی طوفان چھپائے بیٹھے ہیں، پہلے تو کبھی کسی کھلاڑی کے بال سنوارتے تو کبھی ہنسی مذاق کرتے دکھائی دے جاتے تھے، اب بس یونس ہیں اور ان کی ڈائری جس میں نجانے کتنے راز موجود ہوں گے،جب انھیں بیٹنگ کوچ بنایا گیا تو سب کا یہ خیال تھا کہ غصے کا تیز،الگ تھلگ رہنے والا اپنی ذات میں گم یہ شخص جلد ہی کسی سے لڑ کر واپس چلا جائے گا۔

شاید اس کی وجہ ماضی کا ریکارڈ ہو،مگر یونس نے ہر بار یہی کہا کہ وہ اب بدل گئے ہیں اور نئے روپ میں نظر آئیں گے، گوکہ اب تک ان کی پی سی بی یا ٹیم مینجمنٹ کے کسی شخص سے کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی مگر آثار اچھے نہیں لگ رہے، یونس صاف گو قسم کے انسان ہیں، میڈیا سے دور رہتے ہیں، بورڈ بھی ڈرتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی بات نہ بول دیں جس سے تنازع کھڑا ہوجائے اس لیے کم ہی ان کی پریس کانفرنس رکھی جاتی ہیں، ایسی ہی ایک میڈیا ٹاک میں یونس خان نے جب کھلاڑیوں کو جلدی موقع دینے کی نشاندہی اورسلیکشن میں اپنا کردار نہ ہونے کا شکوہ کیا تو صاف لگنے لگا کہ وہ خوش نہیں ہیں، دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے دور میں کھلاڑیوں کی بیٹنگ میں کوئی بہتری بھی دکھائی نہیں دے رہی،ہم بابر اعظم اور محمد رضوان کی کارکردگی کو تو پیمانہ نہیں بنا سکتے۔

اگر حیدر علی جیسے نوجوانوں کی بیٹنگ دیکھیں تو ذہن میں یہ سوال ضرور آتا ہے کہ یونس خان کر کیا رہے ہیں،بعض پلیئرز یہ بھی شکوہ کرتے ہیں کہ بیٹنگ کوچ کی توجہ کا محور صرف کپتان اور نائب ہی ہوتے ہیں ، دیگر کو وہ کم لفٹ کراتے ہیں،اگر ایسا ہے تو یہ ٹھیک نہیں،نوجوان کھلاڑیوں کا یونس خان پر زیادہ حق ہے،اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھائے تو ہائی پرفارمنس سینٹر کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف کے مشوروں کو کریڈٹ دیا جاتا ہے، خراب پرفارمنس کے بعد یونس پر تنقید ہوتی ہے، وہ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والے واحد کھلاڑی ہیں،بطور بیٹسمین مصباح الحق کے ساتھ ان کا کوئی مقابلہ نہیں، لیکن ہیڈکوچ بھی خود کو طرم خان سمجھتے ہیں۔

ایسے میں یونس کے آنے سے ان کی اتھارٹی تو چیلنج ضرور ہوئی ہے،ایک ٹیم میں 2 بیٹنگ کوچز سے بھی مسئلہ تو ہوتا ہوگا ،بولنگ کوچ وقار یونس بھی بطور کھلاڑی مصباح الحق سے بہت آگے ہیں مگر عمر کے اس حصے میں پہنچنے کے بعد وہ سکون کی زندگی چاہتے ہوں گے اس لیے ہیڈکوچ بن کر ہر وقت دباؤ میں رہنا قبول نہیں کیا، البتہ ان کے اور یونس خان کے مزاج میں بہت فرق ہے،اگرکچھ عرصے بعد آپ ٹی وی پر یہ بریکنگ نیوز چلتی دیکھیں کہ یونس خان مستعفی ہو گئے تو حیران نہ ہو گا،پی سی بی کو چاہیے کہ اس سے پہلے ہی کوئی فیصلہ کر لے، یونس خان کو پاکستان کا راہول ڈریوڈ بنائیں۔

انڈر19 ٹیم ان کے سپرد کر دیں، فارغ وقت میں وہ کراچی کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں نوجوان کرکٹرز کی رہنمائی کرتے رہیں، یونس  کی خدمات کا اس سے بہتر فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا،ٹورز پر ٹیم کے ساتھ جا کر وہ ضائع ہو رہے ہیں، وہاں انھیں کسی کو کچھ سکھانے کا موقع نہیں مل رہا ہوگا،بس ڈیلی الاؤنس کی رقم ہی جمع ہو جاتی ہوگی، انڈر 19 کرکٹرز کے ساتھ ڈریوڈ نے کام کر کے بھارتی ٹیم کو کتنا فائدہ پہنچایا یہ سب کے سامنے ہے،ان کی جونیئر ٹیم بھی اچھی ہو گئی جبکہ قومی اسکواڈ کو نیا ٹیلنٹ بھی ملا، یونس بھی ایسا کر سکتے ہیں،بورڈ کو اس حوالے سے سوچنا چاہیے، ہاں مگر پھر یوسف کو قومی ٹیم کا بیٹنگ کوچ نہ بنا دے گا، اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

پاکستانی ٹیم کے لیے مصباح الحق ہی کافی ہیں،پھر بھی اگر کسی کو بیٹنگ کوچ بنانا ہے تو کسی غیر معروف کرکٹر کا تقرر کریں، بڑے نام دکھاوے کے تو کام آتے ہیں مگر افادیت اتنی نہیں ہوتی،یونس خان کبھی بورڈ کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے موجودہ حکام بھاری معاوضے پر انھیں لے تو آئے لیکن قومی ٹیم کے کس کھلاڑی کی بیٹنگ میں غیرمعمولی  بہتری دکھائی دیتی ہے جس کا ہم انھیں کریڈٹ دے سکیں،آگے بھی ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا،اس سے اچھا یہ نہیں کہ وہ بچوں کو ہی سکھائیں اور ان میں سے مستقبل کے یونس خان اور محمد یوسف تلاش کریں، المیہ یہی ہے کہ ہمارے ملک میں جونیئر لیول پر کوئی کام نہیں کرنا چاہتا، سب کی کوشش ہوتی ہے قومی ٹیم کے ساتھ رہ کر مفت کی سیر کرے۔

میڈیا پر نظر آئے،خوب مال بھی کمائے، اسی لیے انڈر 19 سطح کی ٹیموں کے کوچ ایسے سابق کرکٹرز بنتے ہیں جنھیں خود کوچنگ کی ضرورت ہوتی ہے،یونس پیسے کے پیچھے کبھی نہیں بھاگے،نجم سیٹھی کے دور میں انھوں نے ایک کروڑ روپے ٹھکرا دیے تھے،بورڈ انھیں کہہ کر تو دیکھے امید ہے انکار نہیں کریں گے، بابر اعظم اور سرفراز احمد جیسے کھلاڑی انڈر 19 کرکٹ سے ہی اْبھرے تھے، ہم ابھی اس میں سرمایہ کاری کریں گے تو مستقبل میں فائدہ ہوگا، بدقسمتی سے موجودہ چیف سلیکٹر محمد وسیم کی کوئی سمت دکھائی نہیں دیتی، انھیں ٹیم سے زیادہ اپنے امیج کی فکر ہوتی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا تو لوگ کیا کہیں گے، ایسے لوگ بولڈ فیصلے نہیں کر سکتے،اس لیے ایسی ٹیمیں تشکیل پاتی ہیں جنھیں زمبابوین بچے بھی ہرا دیتے ہیں۔

اب ورلڈکپ قریب ہے پی سی بی کو کوچز اور پلیئرز کے بارے میں کوئی فیصلہ کر ہی لینا چاہیے، ساری دنیا جانتی ہے کہ مصباح اور یونس دونوں دفاعی سوچ کے حامل کرکٹرز رہے ہیں،ان سے مختصر طرز کی کرکٹ میں زیادہ بہتر کارکردگی کی امیدیں لگانا مناسب نہیں،اس وقت تو فائنل فور میں شامل ہونا بھی دشوار لگتا ہے، اس سے پہلے کہ وقت گذر جائے کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے،آغاز یونس خان سے کریں،انھیں قومی ٹیم کے ساتھ ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے،کاش حکام یہ بات سمجھ جائیں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں