59

یہاں میتوں کےلیے ’’ڈیزائنر تابوت‘‘ آرڈر پر تیار کیے جاتے ہیں!

یہ کیڈبری کا پیکٹ نہیں بلکہ ڈیزائنر تابوت ہے جس میں میت کو رکھا جائے گا۔ (تصاویر: سوشل میڈیا)

یہ کیڈبری کا پیکٹ نہیں بلکہ ڈیزائنر تابوت ہے جس میں میت کو رکھا جائے گا۔ (تصاویر: سوشل میڈیا)

آکلینڈ: نیوزی لینڈ میں ’’ڈائنگ آرٹ‘‘ نامی ایک ادارے کی وجہ شہرت وہاں بنائے جانے والے خوبصورت اور دیدہ زیب تابوت ہیں جو کسی بھی مرنے والے کی آخری رسومات میں خوشیوں کے رنگ بھر سکتے ہیں۔

آکلینڈ میں واقع یہ ادارہ، راس ہال نامی ایک صاحب کی ملکیت ہے، جن کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی آخری رسوم ویسے ہی دکھ اور تکلیف کا باعث ہوتی ہیں لہذا کچھ دلچسپ اور الگ ان رسومات میں دکھ کا تاثر ختم کرنے کی کوشش کرنے میں کوئی برائی نہیں۔

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی، آخری رسومات کی ایک تقریب میں میت کو ایک بڑے اور کریم والے ڈونٹ جیسی شکل کے تابوت میں رکھا گیا تھا جسے دیکھ کر وہاں موجود تمام افراد مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔

دلچسپی کی بات ہے کہ مرنے والے شخص نے یہ تابوت اپنی زندگی میں ہی ’’آرڈر پر‘‘ بنوا لیا تھا کیونکہ وہ کینسر کی آخری اسٹیج پر پہنچ چکا تھا اور ڈاکٹر اسے جواب دے چکے تھے۔

راس ہال کے شو روم میں گاہکوں کی توجہ کےلیے طرح طرح کے ’’ڈیزائنر تابوت‘‘ رکھے گئے ہیں جن میں ڈیری ملک چاکلیٹ، لیگو ٹوائے اور اسٹار ٹریک، رنگین پھولدار کشتیوں، آگ بجھانے والی گاڑی اور مصری ممیوں کی تھیم والے تابوتوں کے علاوہ اپنی من پسند تھیم کے حساب سے تابوت بنوانے کی سہولت بھی موجود ہے۔

ان تابوتوں کے بارے میں راس ہال نے بتایا کہ یہ سب کے سب ماحول دوست اور حیاتی تنزل پذیر (بایو ڈیگریڈیبل) مادّوں سے بنائے جاتے ہیں جو زمین میں دفن کرنے کے چند مہینوں بعد ہی گل کر مٹی میں مل جاتے ہیں۔

مشرقی ممالک کے برعکس ’’ڈیزائنر تابوتوں‘‘ کا یہ کام حصولِ ثواب کےلیے نہیں بلکہ باقاعدہ کاروبار کی حیثیت سے کیا جاتا ہے۔

اگرچہ ایسے ایک تابوت کی کم از کم قیمت 2500 نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) کے لگ بھگ ہوسکتی ہے لیکن ڈیزائن کی نوعیت اور نفاست کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بہت زیادہ بھی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں