20

یہ ’’تیسری آنکھ‘‘ آپ کے بہت کام آئے گی!

اسمارٹ فون اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہوئے چلنے پھرنے میں حادثات کا خطرہ کم کرنے کےلیے یہ ’’تیسری آنکھ‘‘ ایجاد کی گئی ہے۔ (تصاویر: ڈی زِین)

اسمارٹ فون اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہوئے چلنے پھرنے میں حادثات کا خطرہ کم کرنے کےلیے یہ ’’تیسری آنکھ‘‘ ایجاد کی گئی ہے۔ (تصاویر: ڈی زِین)

سیئول: تصویر میں لڑکی کے ماتھے پر چپکے ہوئے آلے کو اس کے موجد نے ’’تیسری آنکھ‘‘ کا نام دیا ہے کیونکہ یہ اپنے پہننے والے کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اسمارٹ فون پر نظریں جمائے رکھتے ہوئے، راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے بھی باخبر رہے۔

یہ دلچسپ آلہ جنوبی کوریا کے انڈسٹریل ڈیزائنر مِنووک پائنگ نے ایجاد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون آج ہماری روزمرہ زندگی کا ایک ایسا حصہ بن چکا ہے جس سے ہم چلتے پھرتے ہوئے بھی پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔

تاہم اسمارٹ فون اسکرین پر نظریں جمائے رکھتے ہوئے چلنے پھرنے میں حادثات کا خطرہ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جسے حل کرنے کےلیے پائنگ نے یہ ’’تیسری آنکھ‘‘ ایجاد کی ہے۔

ایک چھوٹے سی سی ٹی وی کیمرے کی طرح دکھائی دینے والا یہ آلہ اصل میں اپنے اندر کئی صلاحیتیں سموئے ہوئے ہے جبکہ اسے ’’ٹیکے‘‘ کی مانند، ایک خاص گوند والے پیوند کے ذریعے ماتھے پر چپکایا جاتا ہے۔

یہ تیسری آنکھ ایک شفاف پلاسٹک کے خول میں بند ہے جس کے اندر ایک چھوٹا اسپیکر، ایک جائیرو اسکوپک سینسر اور ایک عدد سونار (آواز کی لہروں سے رہنمائی کرنے والا آلہ) نصب ہے۔

جائیرو اسکوپ سینسر کو جیسے ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس آلے کو پہننے والے نے اپنا سر جھکا دیا ہے تو وہ فوری طور پر تیسری کا ڈھکنا ہٹا دیتا ہے اور اس میں موجود سونار اپنے سامنے موجود علاقے پر (الٹراساؤنڈ لہروں کی مدد سے) نظر رکھنا شروع کردیتا ہے۔

سونار کو جیسے ہی راستے میں کسی رکاوٹ کا پتا چلتا ہے، وہ فوری طور پر ایک اسپیکر سے گھنٹی جیسی آواز نکال کر اپنے پہننے والے کو خبردار کرتا ہے کہ سامنے کوئی رکاوٹ آرہی ہے۔

پائنگ کا کہنا ہے کہ جس طرح موبائل ٹیکنالوجیز ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہیں، ان کے پیشِ نظر یہ ایجاد مستقبل کی ایک جھلک ہے کیونکہ آنے والے برسوں میں ایسی کئی ایجادات سامنے آتی چلی جائیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں