50

یہ جانور اپنی ٹانگوں سے سانس لیتے تھے!

ٹرائیلوبائٹس کے رکازات، مراکش سے: تاہم رکازی ریکارڈ میں ان معدوم جانوروں کی باقیات سب سے عام ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ٹرائیلوبائٹس کے رکازات، مراکش سے: تاہم رکازی ریکارڈ میں ان معدوم جانوروں کی باقیات سب سے عام ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کیلیفورنیا: امریکی اور بھارتی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کروڑوں سال قبل سمندروں میں عام پائے جانے والے جانور ’’ٹرائیلوبائٹس‘‘ اپنی ٹانگوں سے آکسیجن جذب کرتے تھے، یعنی سانس لیتے تھے۔

آج سے تقریباً 57 کروڑ سال پہلے ظہور پذیر ہونے والے یہ جانور ایک لمبے عرصے تک سمندروں میں حکمران رہے اور لگ بھگ 27 کروڑ سال پہلے معدوم ہوگئے۔

ٹرائیلوبائٹس نہ صرف اپنی اقسام بلکہ تعداد کے اعتبار سے بھی اتنے زیادہ تھے کہ آج بھی رکازی ریکارڈ (فوسل ریکارڈ) میں سب سے زیادہ ان ہی کی باقیات ملتی ہیں جن میں سے اکثر انتہائی محفوظ اور مکمل حالت میں ہیں۔

اگرچہ ٹرائیلوبائٹس کا تعلق فائیلم آرتھروپوڈا سے تھا جس سے موجودہ زمانے کے تمام کیڑے مکوڑے بھی تعلق رکھتے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں ’’کیڑے مکوڑوں‘‘ میں شمار نہیں کیا جاتا۔

درجنوں ٹانگوں، سخت خول اور مختلف حصوں میں بٹے ہوئے جسم کے ساتھ ساتھ، ان کی لمبائی ایک ملی میٹر سے 700 ملی میٹر تک ہوسکتی تھی۔ البتہ ٹرائیلوبائٹس کی اوسط لمبائی 50 سے 60 ملی میٹر تک معلوم ہوئی ہے۔

آن لائن ریسرچ جرنل ’’سائنس ایڈوانسز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (ریورسائیڈ)، امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری (نیویارک) اور انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ (کولکتہ) کے سائنسدانوں نے ’’کمپیوٹرائزڈ ٹوموگرافی‘‘ (سی ٹی) کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے ٹرائیلوبائٹ رکازات (فوسلز) کا اتنی باریک بینی سے مشاہدہ کیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔

سی ٹی اسکینر کے ذریعے ٹرائیلوبائٹ رکازات کے سہ جہتی (تھری ڈی) اور انتہائی تفصیلی (ہائی ریزولیوشن) عکس حاصل کیے گئے جن میں 10 مائیکرون سے 30 مائیکرون جتنے باریک جسمانی خدوخال بھی دیکھے جاسکتے تھے۔

موازنے کی غرض سے بتاتے چلیں کہ ایک عام انسانی بال کی اوسط موٹائی 70 مائیکرون ہوتی ہے۔ یعنی سی ٹی اسکین کی مدد سے دیکھی گئی یہ جزئیات، انسانی بال سے بھی سات گنا تک باریک تھیں!

ٹرائیلوبائٹس کی ان ہی تصویروں (سی ٹی اسکینز) کا جائزہ لیتے دوران سائنسدانوں کو ان کی ٹانگوں کے اوپر والے حصوں میں خردبینی ڈمبل جیسے ریشے دکھائی دیئے جو موجودہ مچھلیوں کے گلپھڑوں سے مشابہت رکھتے تھے۔

مزید چھان بین اور تجزیئے کے بعد، بالآخر، ماہرین اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ٹرائیلوبائٹس اپنی ٹانگوں پر موجود ان ہی ریشوں کی مدد سے پانی میں موجود آکسیجن جذب کرتے تھے (یعنی سانس لیتے تھے)۔

یہ دریافت نہ صرف اپنے آپ میں دلچسپ ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے ہمیں آبی جانوروں میں سانس لینے کے نظام، بالخصوص گلپھڑوں کے ارتقاء سے متعلق جاننے میں بہت مدد ملے گی۔

علاوہ ازیں، باریک بینی کے ساتھ تھری ڈی کمپیوٹرائزڈ اسکیننگ بھی کئی حوالوں سے آئندہ کی تحقیقات میں بھی ہماری مدد کرسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں